تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بایں ہمہ وہ اپنی آرزوؤ ں میں گم اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات کا انکار کیا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی آرزوئیں پوری ہوں گی حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَمْلِلْاِنْسَانِمَاتَمَنّٰى ٞۖ۰۰ فَلِلّٰهِالْاٰخِرَةُوَالْاُوْلٰى﴾”کیا انسان جس چیز کی آرزو کرتا ہے۔ وہ اسے ضرور ملتی ہے؟ آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔“ پس وہ جس کو چاہتا عطا کرتا اور جس کو چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔ لہذا امر الٰہی ان کی آرزوؤ ں کے تابع ہے نہ ان کی خواہشات کے موافق۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع ذلك يتمنَّون الأماني ويغترُّون بأنفسهم! ولهذا أنكر تعالى على من زعم أنه يحصلُ له ما تمنَّى وهو كاذبٌ في ذلك، فقال: {أم للإنسان ما تمنَّى. فللهِ الآخرةُ والأولى}: فيعطي منهما مَن يشاء ويمنع مَن يشاء؛ فليس الأمر تابعاً لأمانيِّهم ولا موافقاً لأهوائهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔