تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ:} تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (66،36) کی تفسیر۔
➌ { وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ …:} یعنی یہ لوگ ان کی پرستش صرف اپنے دلوں کی خواہشات کی پیروی میں کر رہے ہیں۔ ان کا دل چاہتا ہے کہ کوئی ایسا معبود ہو جو دنیا میں ان کے کام بناتا رہے اور اگر آخرت آ ہی جائے تو وہاں بھی انھیں بخشوا دے، مگر ان پر حلال و حرام کی کوئی پابندی ہو نہ ان کی خواہشات پر کوئی قدغن ہو۔ اس لیے کبھی کسی کو اللہ کی اولاد بنا کر پوجنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے کوئی مسیح یا عزیر علیھما السلام کو اس کا بیٹا بنا کر پوجتا ہے، جیسے یہود و نصاریٰ اور کوئی فرشتوں کو بیٹیاں بنا کر، جیسے مشرکینِ عرب اور کبھی کسی کو اس کا ایسا محبوب یا محبوبہ بنا کر پوجنے لگتے ہیں جس کی محبت کے ہاتھوں وہ مجبور ہے اور ان کی کوئی بات ٹال نہیں سکتا، جیسا کہ عام بت پرست ہیں اور کئی جھوٹے مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے اور دل میں امید باندھ لیتے ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے یہ خیالی معبود قیامت کے دن انھیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے، کیونکہ ان کا اس کے ساتھ نسب یا محبت کا رشتہ ہے جس سے مجبور ہو کر اسے ان کی شفاعت ماننا پڑے گی۔ جب کہ حقیقت میں یہ سب ان کی ناکام تمنائیں اور آرزوئیں ہیں، بات یہ ہے: «وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى» ”اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی۔“ اور اصل ہدایت اور سیدھی راہ وہی ہے جو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم لے کر ان کے پاس آئے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[15] یعنی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر تمہیں واضح الفاظ میں سیدھا راستہ بتا دیا ہے کہ اس کائنات میں تمہاری عبادت کا اصل حقدار کون ہو سکتا ہے اور اس کے عقلی اور نقلی دلائل کیا ہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ‘ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،]
تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔‘ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» ۱؎ [34-سبأ:23] ’ اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ ‘ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {إنْ هي إلاَّ أسماءٌ سمَّيْتموها أنتم وآباؤكم ما أنزل الله بها من سلطانٍ}؛ أي: من حجَّة وبرهان على صحَّة مذهبكم، وكلُّ أمرٍ ما أنزل الله فيه من سلطانٍ؛ فهو باطلٌ فاسدٌ لا يُتَّخذ ديناً، وهم في أنفسهم ليسوا بمتَّبعين لبرهان يتيقَّنون به ما ذهبوا إليه، وإنَّما دلَّهم على قولهم الظنُّ الفاسد والجهل الكاسد، وما تهواه أنفسُهم من الشرك والبدع الموافقة لأهويتهم، والحالُ أنَّه لا موجب لهم يقتضي اتِّباعهم الظنَّ من فقدِ العلم والهدى، ولهذا قال تعالى: {ولقد جاءهم من ربِّهم الهدى}؛ أي: الذي يرشدهم في باب التوحيد والنبوَّة وجميع المطالب التي يحتاج إليها العباد؛ فكلُّها قد بيَّنها الله أكمل بيان وأوضحه وأدلَّه على المقصود، وأقام عليه من الأدلَّة والبراهين ما يوجب لهم ولغيرهم اتِّباعه، فلم يبق لأحدٍ حجَّة ولا عذر من بعد البيان والبرهان، وإذا كان ما هم عليه غايته اتِّباع الظنِّ ونهايته الشقاءُ الأبديُّ والعذاب السرمديُّ؛ فالبقاء على هذه الحال من أسفه السَّفه وأظلم الظلم.