ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 40

اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ؕ۴۰﴾
یا تو ان سے کوئی اجرت مانگتا ہے؟ پس وہ تاوان سے بوجھل کیے جانے والے ہیں ۔ En
(اے پیغمبر) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے
En
کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے کہ یہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40){ اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ اَجْرًا …: اَلْغُرْمُ وَ الْغَرَامَةُ وَ الْمَغْرَمُ} تاوان، چٹی، جو مال آدمی کو نہ چاہنے کے باوجود دینا پڑ جائے۔ { اَجْرًا } پر تنوین تنکیر کے لیے ہے، کسی بھی طرح کی اجرت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ آپ ان سے کسی طرح کی اجرت کا مطالبہ کرتے ہوں اور وہ تاوان سمجھ کر بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ جب آپ ان سے کسی طرح کی اجرت یا معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے سمجھتے ہیں اور اپنی کمائی یا کاروبار کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے ہر وقت ان کی خیرخواہی کے لیے ان کے پیچھے پھرتے ہیں تو پھر وہ آپ سے دور کیوں بھاگتے ہیں؟ مزید دیکھیے سورۂ مومنون (۷۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 یعنی اس کی ادائیگی ان کے لئے مشکل ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ یا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس کے تاوان [34] سے یہ دبے جا رہے ہیں؟
[34] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے معاوضہ اور نذریں نیازیں طلب کرتے۔ جیسے عموماً مذہب کے ٹھیکیدار حضرات اپنے معتقدین اور مریدوں سے وصول کرتے اور اپنی دکانیں خوب چمکا لیتے ہیں۔ یہاں یہ معاملہ بھی نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نذرانے طلب کریں اور وہ اسے بوجھ سمجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پرے ہٹ جائیں۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ مذہبی ٹھیکیداروں کے بالکل برعکس تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ذاتی سرمایا دین کے کاموں میں صرف کر ڈالا تھا۔ دین کی تبلیغ کی وجہ سے آپ کا کاروبار ٹھپ ہو چکا تھا۔ پھر آپ اس تبلیغ کے کام کا کسی صورت میں معاوضہ بھی نہیں لیتے تھے۔ بلکہ بالکل بے لوث اور بے غرض ہو کر انسانیت کی خدمت کر رہے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ تَسْـَٔؔلُهُمْ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجْرًا تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم تسألُهُم}: يا أيُّها الرسولُ، {أجراً}: على تبليغ الرسالة، {فهم من مَغْرَمٍ مُثْقَلونَ}: ليس الأمر كذلك، بل أنت الحريص على تعليمهم تبرُّعاً من غير شيء، بل تبذلُ لهم الأموالَ الجزيلة على قَبول رسالتك والاستجابة لأمرِك ودعوتك ، وتعطي المؤلَّفة قلوبهم؛ ليتمكَّن العلم والإيمان من قلوبهم.