تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَمْلَهُالْبَنٰتُ﴾”یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟“ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُالْبَنُوْنَ﴾”اور تمھارے لیے بیٹے“ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {أم له البناتُ}: كما زعمتُم، {ولكم البنونَ}: فتجمعون بين المحذورَيْن: جَعْلُكُم له الولد، واختيارُكُم له أنقص الصنفين؛ فهل بعد هذا التنقُّص لربِّ العالمين غايةٌ أو دونه نهايةٌ؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔