تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 18

فٰکِہِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ۚ وَ وَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۸﴾
لطف اٹھانے والے اس سے جو ان کے رب نے انھیں دیا اور ان کے رب نے انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لیا۔ En
جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال۔ اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا
En
جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں، اوران کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بھی بچا لیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فٰ٘ــكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گااس سے خوش ہوتے ہوئے، نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انھوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فاكهين بما آتاهم ربُّهم}؛ أي: معجبين به، متمتِّعين على وجه الفرح والسرور بما أعطاهم الله من النعيم الذي لا يمكن وصفُه، و {لا تعلمُ نفسٌ ما أُخْفِيَ لهم من قرَّةِ أعينٍ}، {ووقاهم ربُّهم عذابَ الجحيم}: فرزقهم المحبوب، ونجَّاهم من المرهوب، لمَّا فعلوا ما أحبَّه [اللَّهُ] وجانبوا ما يسخطه.