تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 17

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾
بے شک متقی لو گ باغوں اور بڑی نعمت میں ہیں۔ En
جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعتموں میں ہوں گے
En
یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، اہل تقویٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا کر دے اور دل خوف و رجا کے درمیان رہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ جنھوں نے اپنے رب کے لیے تقویٰ کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کے تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کر کے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ ﴿ فِیْ جَنّٰتٍ وہ باغات میں ہوں گے، ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہو گا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے ﴿ وَّنَعِیْمٍ اور نعمتوں میں ہوں گے یہ قلب کی نعمت اور روح و بدن کی نعمت کو شامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لمَّا ذكر تعالى عقوبة المكذِّبين؛ ذكر نعيم المتَّقين؛ ليجمع بين الترغيب والترهيب، فتكون القلوبُ بين الخوف والرجاء، فقال: {إنَّ المتَّقين}: لربِّهم، الذين اتَّقوا سخطه وعذابه بفعل أسبابه من امتثال الأوامر واجتناب النواهي، {في جنَّاتٍ}؛ أي: بساتين، قد اكتست رياضها من الأشجار الملتفَّة والأنهار المتدفِّقة والقصور المُحْدِقة والمنازل المُزَخْرَفة، {ونعِيمٍ}: وهذا شاملٌ لنعيم القلب والروح والبدن.