تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 43

وَ فِیۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۴۳﴾
اور ثمود میں، جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔ En
اور (قوم) ثمود (کے حال) میں (نشانی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو
En
اور ﺛمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائده اٹھا لو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَفِیْ ثَمُوْدَ اور ثمود میں بھی۔ ایک عظیم نشان عبرت ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث کیا تو انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طورپر اونٹنی بھیجی۔مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی ﴿ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ۰۰چنانچہ انھیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وفي ثمودَ}: آيةٌ عظيمةٌ حين أرسل الله إليهم صالحاً عليه السلام، فكذَّبوه وعاندوه، وبعث الله له الناقة آيةً مبصرةً، فلم يزدْهم ذلك إلاَّ عتُوًّا ونفوراً، {قيل لهم تمتَّعوا حتى حينٍ}.