ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 43

وَ فِیۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۴۳﴾
اور ثمود میں، جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔ En
اور (قوم) ثمود (کے حال) میں (نشانی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو
En
اور ﺛمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائده اٹھا لو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44،43) {وَ فِيْ ثَمُوْدَ اِذْ قِيْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ …:} اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ جب انھوں نے اونٹنی کو کاٹ دیا تو ان سے کہا گیا کہ تین دن تک خوب فائدہ اٹھا لو، اس کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا۔ ان تین دنوں میں وہ تائب ہو سکتے تھے، مگر وہ اپنی سرکشی پر اور صالح علیہ السلام کی تکذیب پر اڑے رہے، تو تیسرے دن ان کے دیکھتے دیکھتے ایک ہولناک چیخ بلند ہوئی (ہود: ۶۷) جس کے ساتھ نہایت خوفناک کڑک والی بجلی گری، جس نے انھیں بھسم کر دیا اور وہ اس طرح نیست و نابود ہوئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا: «كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا» ‏‏‏‏ [ھود: ۶۸] جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس { تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ } (ایک وقت تک خوب فائدہ اٹھا لو) کہنے سے مراد صالح علیہ السلام کا ان کی طرف مبعوث ہونے کے وقت کا خطاب ہے کہ دنیا میں تمھیں موت تک مہلت ہے، اس میں خوب فائدہ اٹھا لو، مگر اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ تم پر عذاب آ جائے گا، مگر انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اونٹنی کو کاٹ دیا تو انھیں صاعقہ نے پکڑ لیا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے اور دونوں بیک وقت بھی مراد ہو سکتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

43۔ 1 یعنی جب انہوں نے اپنے ہی طلب کردہ معجزے اونٹنی کو قتل کردیا، تو ان سے کہہ دیا گیا کہ اب تین دن اور تم دنیا کے مزے لوٹ لو، تین دن کے بعد تم ہلاک کردیئے جاؤ گے۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے بعض نے اسے حضرت صالح ؑ کی ابتدائے نبوت کا قول قرار دیا ہے۔ الفاظ اس مفہوم کے بھی متحمل ہیں بلکہ سیاق سے یہی معنی زیادہ قریب ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ اور ثمود میں (بھی ایک نشانی چھوڑی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک خاص وقت [37] تک مزے اڑا لو
[37] ذکر قوم ثمود :۔
قوم ثمود کی طرف صالحؑ مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا لیکن وہ مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔ اس وقت صالحؑ نے کہا کہ اگر تم اس دعوت کو قبول نہ کرو گے تو تم پر عذاب الٰہی آکے رہے گا۔ اس عذاب سے پیشتر ہی تم دنیا کے مال و متاع سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ یا ممکن ہے یہاں حین سے مراد عذاب کے وقت کے بجائے ان کی موت کا وقت ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَفِیْ ثَمُوْدَ اور ثمود میں بھی۔ ایک عظیم نشان عبرت ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث کیا تو انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طورپر اونٹنی بھیجی۔مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی ﴿ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ۰۰چنانچہ انھیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وفي ثمودَ}: آيةٌ عظيمةٌ حين أرسل الله إليهم صالحاً عليه السلام، فكذَّبوه وعاندوه، وبعث الله له الناقة آيةً مبصرةً، فلم يزدْهم ذلك إلاَّ عتُوًّا ونفوراً، {قيل لهم تمتَّعوا حتى حينٍ}.