تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 42

مَا تَذَرُ مِنۡ شَیۡءٍ اَتَتۡ عَلَیۡہِ اِلَّا جَعَلَتۡہُ کَالرَّمِیۡمِ ﴿ؕ۴۲﴾
جو کسی چیز کو نہ چھوڑتی تھی جس پر سے گزرتی مگر اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح کر دیتی تھی۔ En
وہ جس چیز پر چلتی اس کو ریزہ ریزہ کئے بغیر نہ چھوڑتی
En
وه جس جس چیز پر گرتی تھی اسے بوسیده ہدی کی طرح (چورا چورا) کردیتی تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِ وہ جس پر سے بھی گزرتی تو وہ اسے ریزہ ریزہ کیے بغیرنہ چھوڑتی۔ یعنی ریزہ ریزہ کی ہوئی بوسیدہ چیز کے مانند۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہستی جس نے قوم عاد کو ان کی قوت اور طاقت کے باوجود ہلاک کر ڈالا، کامل قوت و اقتدار کی مالک ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، وہ نافرمانی کرنے والوں سے انتقام لے سکتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ما تَذَرُ من شيءٍ أتتْ عليه إلاَّ جَعَلَتْهُ كالرَّميم}؛ أي: كالرِّمم البالية؛ فالذي أهلكهم على قوَّتهم وبطشهم دليلٌ على كمال قوَّته واقتداره، الذي لا يعجِزُه شيء، المنتقم ممَّن عصاه.