تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 44

فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہِمۡ فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۴۴﴾
پھر انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سر کشی کی تو انھیں کڑک نے پکڑ لیا اور وہ دیکھ رہے تھے۔ En
تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی۔ سو ان کو کڑک نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے
En
لیکن انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی جس پر انہیں ان کے دیکھتے دیکھتے (تیز وتند) کڑاکے نے ہلاک کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰؔعِقَةُ تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔ یعنی ہلاک کر دینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آ لیا ﴿ وَهُمْ یَنْظُ٘رُوْنَ اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فعَتَوْا عن أمرِ ربِّهم فأخَذَتْهُمُ الصَّاعقةُ}؛ أي: الصيحة العظيمة المهلكة، {وهم ينظرونَ}: إلى عقوبتهم بأعينهم.