(آیت 42) {مَاتَذَرُمِنْشَيْءٍاَتَتْعَلَيْهِ …: ”اَلرَّمِيْمُ“} بوسیدہ، پرانی، گلی ہوئی ہڈی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
42۔ 1 یہ اس ہوا کی تاثیر تھی جو قوم عاد پر بطور عذاب بھیجی گئی تھی۔ یہ تند تیز ہوا، سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی (الحاقہ)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ وہ جس چیز پر بھی گزرتی اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح چکنا چور [36] کر دیتی
[36] یہ بانجھ ہوا باد صرصر تھی اولوں کی طرح ٹھنڈی یخ اور آندھی سے بھی زیادہ تیز۔ جو بے قابو ہوئی جا رہی تھی۔ یہ طوفانی ہوا ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلی۔ ان کے مکانوں کے اندر داخل ہو کر ہر چیز کو فنا کر رہی تھی۔ اس کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر پہلے بھی گزر چکا ہے اور بعد میں بھی آئے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿مَاتَذَرُمِنْشَیْءٍاَتَتْعَلَیْهِاِلَّاجَعَلَتْهُكَالرَّمِیْمِ﴾”وہ جس پر سے بھی گزرتی تو وہ اسے ریزہ ریزہ کیے بغیرنہ چھوڑتی۔“ یعنی ریزہ ریزہ کی ہوئی بوسیدہ چیز کے مانند۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہستی جس نے قوم عاد کو ان کی قوت اور طاقت کے باوجود ہلاک کر ڈالا، کامل قوت و اقتدار کی مالک ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، وہ نافرمانی کرنے والوں سے انتقام لے سکتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ما تَذَرُ من شيءٍ أتتْ عليه إلاَّ جَعَلَتْهُ كالرَّميم}؛ أي: كالرِّمم البالية؛ فالذي أهلكهم على قوَّتهم وبطشهم دليلٌ على كمال قوَّته واقتداره، الذي لا يعجِزُه شيء، المنتقم ممَّن عصاه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔