تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 41

وَ فِیۡ عَادٍ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الرِّیۡحَ الۡعَقِیۡمَ ﴿ۚ۴۱﴾
اور عاد میں، جب ہم نے ان پر بانجھ (خیرو برکت سے خالی) آندھی بھیجی۔ En
اور عاد (کی قوم کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر نامبارک ہوا چلائی
En
اسی طرح عادیوں میں بھی (ہماری طرف سے تنبیہ ہے) جب کہ ہم نے ان پر خیر وبرکت سے خالی آندھی بھیجی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَفِیْ عَادٍ اور عاد میں بھی۔نشان عبرت ہے جو ایک معروف قبیلہ تھا۔ ﴿ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ جب انھوں نے اپنے نبی ہود علیہ السلام کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر نامبارک ہوا بھیجی جو خیر سے خالی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} آية لهم {في عادٍ}: القبيلة المعروفة، {إذْ أرسَلْنا عليهم الريحَ العقيمَ}؛ أي: التي لا خير فيها، حين كذَّبوا نبيَّهم هوداً عليه السلام.