تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 40

فَاَخَذۡنٰہُ وَ جُنُوۡدَہٗ فَنَبَذۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿ؕ۴۰﴾
پس ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انھیں سمندر میں پھینک دیا، اس حال میں کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔ En
تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا
En
بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وه تھا ہی ملامت کے قابل En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَهُوَ مُلِیْمٌ پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ شکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا۔ اور وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔ یعنی وہ گناہ گار، حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأخذْناه وجنودَه فنَبَذْناهم في اليمِّ وهو مُليمٌ}؛ أي: مذنبٌ طاغٍ عاتٍ على الله، فأخذه [اللَّهُ] أخذَ عزيزٍ مقتدرٍ.