(آیت 40) {فَاَخَذْنٰهُوَجُنُوْدَهٗفَنَبَذْنٰهُمْفِيالْيَمِّ …: ”أَلَامَيُلِيْمُ“} (افعال) ایسا کام کرنا جس پر ملامت کی جائے۔ {”مُلِيْمٌ“} مستحق ملامت، ایسا کام کرنے والا جس پر اسے ملامت کی جائے۔ یعنی وہ ایسا ظالم و سرکش تھا کہ اس کے سمندر میں لشکر سمیت غرق ہونے پر کسی نے اس کے حق میں کوئی کلمۂ خیر نہیں کہا، بلکہ ہر شخص کے منہ سے اس کے لیے ملامت اور پھٹکار ہی نکلی، جس نے سنا یہی کہا کہ ان کے ساتھ ایسے ہی ہونا چاہیے تھا۔ خس کم جہاں پاک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَمَابَكَتْعَلَيْهِمُالسَّمَآءُوَالْاَرْضُ»[الدخان: ۲۹]”پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین۔“ سمندر میں پھینکے جانے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۰ تا ۹۲)، طٰہٰ (۷۷، 78) اور شعراء (۵۲ تا ۶۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40۔ 1 یعنی اس کے کام ہی ایسے تھے کہ جن پر وہ ملامت ہی کا مستحق تھا
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ پھر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور سمندر میں پھینک دیا اور وہ تھا ہی قابل ملامت [34]
[34] یعنی جب یہ ظالم و جابر حکمران اپنے لشکروں سمیت غرق ہو گیا تو کسی نے ان کی تباہی پر آنسو نہ بہائے۔ ہر کوئی انہیں ملامت کرتا اور برے لفظوں سے یاد کرتا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس ملعون سے جان چھوٹی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَاَخَذْنٰهُوَجُنُوْدَهٗفَنَبَذْنٰهُمْفِیالْیَمِّوَهُوَمُلِیْمٌ﴾”پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ شکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا۔“ اور وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔“ یعنی وہ گناہ گار، حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأخذْناه وجنودَه فنَبَذْناهم في اليمِّ وهو مُليمٌ}؛ أي: مذنبٌ طاغٍ عاتٍ على الله، فأخذه [اللَّهُ] أخذَ عزيزٍ مقتدرٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔