تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا ﴿ بِرُؔكْنِهٖ﴾”اپنے لشکر کے ساتھ“ یعنی اس نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف التفات نہ کیا بلکہ انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام میں جرح و قدح کی اور کہنے لگے: ﴿ سٰحِرٌاَوْمَجْنُوْنٌ﴾ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے۔جو چیز موسیٰ پیش کر رہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے، یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے، اسے، اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے، اخذ نہ کیا جائے۔ حالانکہ انھیں پوری طرح علم تھا خاص طور پر فرعون جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سچے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَحَدُوْابِهَاوَاسْتَیْقَنَتْهَاۤاَنْفُسُهُمْظُلْمًاوَّعُلُوًّا ﴾ (النمل:27؍14) ”انھوں نے ظلم اور تکبر سے آیات الٰہی کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل تو ان کو تسلیم کر چکے تھے۔“ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے فرمایا:﴿ قَالَلَقَدْعَلِمْتَمَاۤاَنْزَلَهٰۤؤُلَآءِاِلَّارَبُّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِبَصَآىِٕرَ ﴾ (بنی اسرائیل: 17؍102)”تجھے علم ہو چکا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا أتى موسى فرعون بذلك السلطان المبين؛ تولَّى فرعون {بركنِهِ}؛ أي: أعرض بجانبه عن الحقِّ، ولم يلتفتْ إليه، وقدحوا فيه أعظم القدح، فقالوا: {ساحرٌ أو مجنونٌ}؛ أي: إن موسى لا يخلوا إمَّا أن يكون ما أتى به سحراً وشعبذةً ليس من الحقِّ قي شيء، وإمَّا أن يكون مجنوناً لا يؤاخَذُ بما صدر منه لعدم عقله! هذا وقد علموا ـ خصوصاً فرعون ـ أنَّ موسى صادقٌ؛ كما قال تعالى: {وجَحَدوا بها واسْتَيْقَنَتْها أنفسُهم ظلماً وعلوًّا}، وقال موسى لفرعون: {لقد علمتَ ما أنزل هؤلاءِ إلاَّ ربُّ السمواتِ والأرض بصائرَ ... } الآية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔