تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِذْدَخَلُوْاعَلَیْهِفَقَالُوْاسَلٰ٘مًا ١ؕ قَالَ﴾”جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰ٘مٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوْمٌمُّنْؔكَرُوْنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إذْ دَخَلوا عليه فقالوا سلاماً قال}: مجيباً لهم: {سلامٌ}؛ أي: عليكم، {قومٌ منكَرون}؛ أي: أنتم قوم منكَرون، فأحبُّ أن تعرِّفوني بأنفسكم، ولم يعرفهم إلاَّ بعد ذلك.