تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 24

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾
کیا تیرے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات آئی ہے؟ En
بھلا تمہارے پاس ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے؟
En
کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلْ اَتٰىكَ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُؔكْرَمِیْنَ ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہو کر جائیں، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {هل أتاك}؛ أي: أما جاءك؟ {حديثُ ضيفِ إبراهيمَ المُكْرَمينَ}: ونبأهُم الغريب العجيب، وهم الملائكة الذين أرسلهم الله لإهلاك قوم لوطٍ، وأمرهم بالمرور على إبراهيم، فجاؤوه في صورة أضياف.