تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 26

فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾
پس چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا، پس (بھناہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔ En
تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے
En
پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا راغ {إلى أهلِهِ}؛ أي: ذهب سريعاً في خفيةٍ ليحضر لهم قِراهم، {فجاء بعجلٍ سمينٍ}.