تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 34

ادۡخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡخُلُوۡدِ ﴿۳۴﴾
اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہی ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ En
اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے
En
تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان نیک اور پرہیزگار لوگوں سے کہا جائے گا ﴿ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ داخلہ ہر قسم کی آفات اور شر سے سلامتی سے مقرون اور تمام ناپسندیدہ امور سے مامون ہے۔ ان کو عطا کی گئی نعمتیں منقطع ہوں گی نہ ان میں کوئی تکدر اور بدمزگی آئے گی۔ ﴿ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ جسے کبھی زوال آئے گا نہ موت اور نہ کسی قسم کا کوئی تکدر ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ويقال لهؤلاء الأتقياء الأبرار: {ادْخُلوها بِسلامٍ}؛ أي: دخولاً مقروناً بالسلامة من الآفات والشرور، مأموناً فيه جميع مكاره الأمور؛ فلا انقطاع لنعيمهم ولا كدر ولا تنغيص. {ذلك يومُ الخُلودِ}: الذي لا زوال له ولا موت ولا شيء من المكدِّرات.