(آیت 34){ ادْخُلُوْهَابِسَلٰمٍ …:} یعنی ان کی عزت افزائی کے لیے کہا جائے گا کہ سلام کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔ سلام کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے خوف، غم اور فکر سے سلامت رہ کر اس میں داخل ہو جاؤ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں اس حال میں داخل ہو جاؤ کہ تم پر فرشتوں اور پروردگار کی طرف سے سلام ہے، جیسا کہ فرمایا: «سَلٰمٌقَوْلًامِّنْرَّبٍّرَّحِيْمٍ»[یٰسٓ: ۵۸]”سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔ “ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے، کبھی اس سے نکالے نہیں جاؤ گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ دن حیات ابدی کا دن ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان نیک اور پرہیزگار لوگوں سے کہا جائے گا ﴿ادْخُلُوْهَابِسَلٰمٍ﴾ اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ داخلہ ہر قسم کی آفات اور شر سے سلامتی سے مقرون اور تمام ناپسندیدہ امور سے مامون ہے۔ ان کو عطا کی گئی نعمتیں منقطع ہوں گی نہ ان میں کوئی تکدر اور بدمزگی آئے گی۔ ﴿ذٰلِكَیَوْمُالْخُلُوْدِ﴾”یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔“ جسے کبھی زوال آئے گا نہ موت اور نہ کسی قسم کا کوئی تکدر ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ويقال لهؤلاء الأتقياء الأبرار: {ادْخُلوها بِسلامٍ}؛ أي: دخولاً مقروناً بالسلامة من الآفات والشرور، مأموناً فيه جميع مكاره الأمور؛ فلا انقطاع لنعيمهم ولا كدر ولا تنغيص. {ذلك يومُ الخُلودِ}: الذي لا زوال له ولا موت ولا شيء من المكدِّرات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔