تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿مَنْخَشِیَالرَّحْمٰنَ﴾ اپنے رب کی پوری معرفت، اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہے، اپنی حالت غیب، یعنی جب وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے، تو خشیت الٰہی کا التزام کرتا ہے۔ اور یہی حقیقی خشیت ہے۔ رہی وہ خشیت جس کا اظہار لوگوں کی نظروں کے سامنے اور ان کی موجودگی میں کیا جائے تو اس میں کبھی کبھی ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ آ جاتا ہے۔ یہ حقیقی خشیت پر دلالت نہیں کرتی۔ فائدہ مند خشیت تو صرف وہی ہے جو کھلے اور چھپے ہر حال میں ہو۔ ﴿وَجَآءَبِقَلْبٍمُّنِيْبِ﴾”اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔“ یعنی اس کا وصف اپنے آقا کی طرف رجوع ہو اور اس کے تمام داعیے اپنے آقا کی رضا میں جذب ہو گئے ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{مَنْ خَشِيَ الرحمنَ}؛ أي: خافه على وجه المعرفة بربِّه والرجاء لرحمته، ولازم على خشية الله في حال غيبه؛ أي: مغيبه عن أعين الناس. وهذه الخشية الحقيقيَّة، وأمَّا خشيتُه في حال نظر الناس وحضورهم؛ فقد يكون رياءً وسمعةً؛ فلا يدلُّ على الخشية، وإنما الخشية النافعة خشيته في الغيب والشهادة، [ويحتمل أنّ المراد بخشية اللَّه بالغيب، كالمراد بالإيمان بالغيب. وأنّ هذا مقابل للشهادة حيث يكون الإيمان والخشية ضرورياً لا اختيارياً حيث يعاين العذاب، وتأتي آيات اللَّه وهذا هو الظاهر.] {وجاء بقلبٍ منيبٍ}؛ أي: وصفه الإنابة إلى مولاه، وانجذاب دواعيه إلى مراضيه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔