تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿لَهُمْمَّایَشَآءُوْنَفِیْهَا﴾ انھیں وہاں ہر وہ چیز حاصل ہو گی، جس سے ان کی چاہت وابستہ ہو گی۔ اس سے بڑھ کر ﴿مَزِیْدٌ ﴾”اور بھی زیادہ ہے“ یعنی ثواب، جسے رحمان و رحیم ان کے لیے بڑھاتا رہے گا، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا گزر ہوا ہے... سب سے بڑا، سب سے جلیل اور سب سے افضل ثواب اللہ تعالیٰ کے چہرہ انور کا دیدار، اس کے کلام کی سماعت اور اس کے قرب کی نعمت ہو گی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی انھی لوگوں میں شامل کردے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لهم ما يشاؤون فيها}؛ أي: كلُّ ما تعلَّقت به مشيئتهم؛ فهو حاصلٌ فيها، {ولدَينا}: فوق ذلك {مَزيدٌ}؛ أي: ثوابٌ يمدُّهم به الرحمن الرحيم، ممَّا لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشرٍ، وأعظم ذلك وأجلُّه وأفضله النظر إلى وجهه الكريم، والتمتُّع بسماع كلامه، والتنعُّم بقربه، فنسأله من فضله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔