تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 32

ہٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیۡظٍ ﴿ۚ۳۲﴾
یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع والا، خوب حفاظت کرنے والا ہو۔ En
یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے
En
یہ ہے جس کا تم سے وعده کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے واﻻ اور پابندی کرنے واﻻ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

انھیں مبارک بادی کے طور پر کہا جائے گا ﴿هٰؔذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُ٘لِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ یہی وہ چیز ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حفاظت کرنے والے سے۔ یعنی یہ جنت، اور اس میں جو کچھ موجود ہے، جس کی نفوسِ انسانی خواہش رکھتے ہیں، جس سے آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں، جس کا ہر اس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کے ساتھ محبت، اس سے استعانت، اس سے دعا اور اس کے خوف اور اس سے امید کے ذریعے سے، اس کی طرف بہت کثرت سے رجوع کرتا ہے۔ ﴿ حَفِیْظٍ اخلاق اور تکمیل کے ساتھ کامل ترین طریقے سے ان اوامر کی تعمیل کرتا ہے، نیز اس کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ويقال لهم على وجه التَّهنئة: {هذا ما توعدون لكلِّ أوَّابٍ حفيظٍ}؛ أي: هذه الجنة وما فيها مما تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعين هي التي وعدَ اللهُ كلَّ أوابٍ؛ أي: رجَّاع إلى الله في جميع الأوقات؛ بذكرِه وحبِّه والاستعانةِ به ودعائِه وخوفِه ورجائِه. {حفيظ}؛ أي: محافظ على ما أمر الله به؛ بامتثاله على وجه الإخلاص والإكمال له على أتمِّ الوجوه، حفيظ لحدوده.