(آیت 32) {هٰذَامَاتُوْعَدُوْنَلِكُلِّاَوَّابٍحَفِيْظٍ:”اَوَّابٍ“”آبَيَؤُوْبُأَوْبًا“} (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت رجوع کرنے والا، جو ہر معاملے میں اللہ کی طرف بہت رجوع کرے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بنا پر نہ اٹھائے، اسی طرح ہر لغزش کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرکے توبہ و استغفار کرے۔ {”حَفِيْظٍ“} جو اللہ کے احکامات کی خوب حفاظت اور پابندی کرنے والا ہو۔ یعنی جنتیوں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جنت جس کا تم سے ہر ایسے شخص کے لیے وعدہ کیا جاتا تھا جو اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا، اس کے احکام کی خوب پابندی کرنے والا ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32۔ 1 یعنی اہل ایمان جب جنت کا اور اس کی نعمتوں کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اواب اور حفیظ سے کیا گیا تھا اواب، بہت رجوع کرنے والا یعنی اللہ کی (طرف کثرت سے توبہ استغفار اور تسبیح و ذکر الٰہی کرنے والا خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے ان سے توبہ کرنے والا، یا اللہ کے حقوق اور اس کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا یا اللہ کے اوامر نواہی کو یاد رکھنے والا گیا تھا۔ فتح القدیر
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ ہر رجوع [37] کرنے والے اور نگہداشت [38] کرنے والے کے لئے ہے۔
[37] یعنی ایسا شخص جس کا معمول ہی یہ بن گیا ہو کہ اپنے ہر قسم کے حالات میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے اور اللہ کی رضا کے مطابق ہی عمل کرے۔ [38] اس میں ہر قسم کی حفاظت اور محافظت شامل ہے۔ یعنی اپنے عہد و پیمان کی محافظت کرنے والا خواہ یہ عہد اللہ سے ہو یا لوگوں سے۔ نیز اپنی نمازوں کی نگہداشت کرنے والا ہو۔ حدود اللہ کا دھیان رکھنے والا ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
انھیں مبارک بادی کے طور پر کہا جائے گا ﴿هٰؔذَامَاتُوْعَدُوْنَلِكُ٘لِّاَوَّابٍحَفِیْظٍ﴾”یہی وہ چیز ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حفاظت کرنے والے سے۔“ یعنی یہ جنت، اور اس میں جو کچھ موجود ہے، جس کی نفوسِ انسانی خواہش رکھتے ہیں، جس سے آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں، جس کا ہر اس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کے ساتھ محبت، اس سے استعانت، اس سے دعا اور اس کے خوف اور اس سے امید کے ذریعے سے، اس کی طرف بہت کثرت سے رجوع کرتا ہے۔ ﴿ حَفِیْظٍ﴾ اخلاق اور تکمیل کے ساتھ کامل ترین طریقے سے ان اوامر کی تعمیل کرتا ہے، نیز اس کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ويقال لهم على وجه التَّهنئة: {هذا ما توعدون لكلِّ أوَّابٍ حفيظٍ}؛ أي: هذه الجنة وما فيها مما تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعين هي التي وعدَ اللهُ كلَّ أوابٍ؛ أي: رجَّاع إلى الله في جميع الأوقات؛ بذكرِه وحبِّه والاستعانةِ به ودعائِه وخوفِه ورجائِه. {حفيظ}؛ أي: محافظ على ما أمر الله به؛ بامتثاله على وجه الإخلاص والإكمال له على أتمِّ الوجوه، حفيظ لحدوده.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔