تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 31

وَ اُزۡلِفَتِ الۡجَنَّۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ ﴿۳۱﴾
اور جنت پر ہیز گاروں کے لیے قریب کر دی جائے گی، جو کچھ دور نہ ہوگی۔ En
اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی
En
اور جنت پرہیزگاروں کے لئے بالکل قریب کر دی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاُزْلِفَتِ الْؔجَنَّةُ جنت کو قریب کر دیا جائے گا ﴿لِلْ٘مُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ پرہیز گاروں کے لیے، دور نہ ہوگی۔ جہاں اس کا مشاہدہ کیا جا سکے گا، اس کی دائمی نعمتوں اور مسرتوں کو دیکھا جا سکے گا۔ جنت کو صرف ان لوگوں کے قریب کیا جائے گا جو اپنے رب سے ڈر کر شرک اکبر اور شرک اصغر سے اجتناب کرتے ہیں، نیز اپنے رب کے احکام کی تعمیل اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأزلِفَتِ الجنةُ}؛ أي: قرِّبت بحيث تشاهَد ويُنْظَرُ ما فيها من النعيم المقيم والحبرة والسرور، وإنما أزْلِفَتْ وقُرِّبَتْ لأجل المتَّقين لربِّهم، التاركين للشرك كبيره وصغيره ، الممتَثِلينَ لأوامر ربهم، المنقادين له.