تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اسی طرح اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں”کرامًا کاتبین“ کا لحاظ رکھے، ان کی عزت و توقیر کرے۔ وہ کسی ایسے قول و فعل سے بچے جو اس کی طرف سے لکھ لیا جائے جس سے رب کائنات راضی نہ ہو۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ اِذْیَتَلَ٘قَّىالْمُتَلَقِّیٰنِ۠﴾”جب دو لکھنے والے لکھ لیتے ہیں۔“ یعنی بندے کے تمام اعمال درج کر رہے ہیں ﴿ عَنِالْیَمِیْنِ﴾ دائیں جانب کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا فرشتہ۔ ﴿ عَنِالشِّمَالِ﴾ بائیں جانب سے برائیاں لکھتا ہے اور ان میں ہر ایک ﴿ قَعِیْدٌ﴾ یہ کام کرنے کے لیے بیٹھا ہوا اور اپنے اس عمل کے لیے مستعد ہے، جس کے لیے اسے مقرر کیا گیا ہے یعنی اس کام میں لگا ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكذلك ينبغي له أن يجعل الملائكةَ الكرامَ الكاتبين منه على بال، فيجلُّهم ويوقِّرهم ويحذر أن يفعل أو يقول ما يكتب عنه ممَّا لا يرضي ربَّ العالمين، ولهذا قال: {إذْ يَتَلَقَّى المُتَلَقِّيانِ}؛ أي: يتلقَّيانِ عن العبد أعماله كلَّها، واحدٌ {عن اليمين}: يكتب الحسنات، {و} الآخر {عن الشمال}: يكتب السيئات، وكل منهما مقيدٌ بذلك، متهيئٌ لعمله الذي أعدَّ له، ملازمٌ لذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔