تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 17

اِذۡ یَتَلَقَّی الۡمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیۡدٌ ﴿۱۷﴾
جب (اس کے ہر قول و فعل کو) دو لینے والے لیتے ہیں، جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔ En
جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں
En
جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی طرح اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کرامًا کاتبین کا لحاظ رکھے، ان کی عزت و توقیر کرے۔ وہ کسی ایسے قول و فعل سے بچے جو اس کی طرف سے لکھ لیا جائے جس سے رب کائنات راضی نہ ہو۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ اِذْ یَتَلَ٘قَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ۠ جب دو لکھنے والے لکھ لیتے ہیں۔ یعنی بندے کے تمام اعمال درج کر رہے ہیں ﴿ عَنِ الْیَمِیْنِ دائیں جانب کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا فرشتہ۔ ﴿ عَنِ الشِّمَالِ بائیں جانب سے برائیاں لکھتا ہے اور ان میں ہر ایک ﴿ قَعِیْدٌ یہ کام کرنے کے لیے بیٹھا ہوا اور اپنے اس عمل کے لیے مستعد ہے، جس کے لیے اسے مقرر کیا گیا ہے یعنی اس کام میں لگا ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكذلك ينبغي له أن يجعل الملائكةَ الكرامَ الكاتبين منه على بال، فيجلُّهم ويوقِّرهم ويحذر أن يفعل أو يقول ما يكتب عنه ممَّا لا يرضي ربَّ العالمين، ولهذا قال: {إذْ يَتَلَقَّى المُتَلَقِّيانِ}؛ أي: يتلقَّيانِ عن العبد أعماله كلَّها، واحدٌ {عن اليمين}: يكتب الحسنات، {و} الآخر {عن الشمال}: يكتب السيئات، وكل منهما مقيدٌ بذلك، متهيئٌ لعمله الذي أعدَّ له، ملازمٌ لذلك.