تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ مَایَلْفِظُمِنْقَوْلٍ﴾ وہ خیر یا شر جو بھی لفظ بولتا ہے ﴿ اِلَّالَدَیْهِرَقِیْبٌعَتِیْدٌ﴾ تو ایک نگران موجود ہوتا ہے، جو اس کے پاس ہر حال میں موجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّعَلَیْكُمْلَحٰؔفِظِیْنَۙ۰۰كِرَامًاكَاتِبِیْنَۙ۰۰یَعْلَمُوْنَمَاتَفْعَلُوْنَ﴾ (الانفطار:82؍10-12) ”اور بے شك تم پر نگہبان مقرر ہیں، بلند مرتبہ کاتب، جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب جانتے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ما يَلْفِظُ من قولٍ}: خير أو شرٍّ {إلاَّ لديه رقيبٌ عتيدٌ}؛ أي: مراقب له، حاضرٌ لحاله؛ كما قال تعالى: {وإنَّ عليكم لحافظينَ. كراماً كاتبينَ. يعلمون ما تفعلون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔