تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 18

مَا یَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾
وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔ En
کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے
En
(انسان) منھ سے کوئی لفﻆ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ وہ خیر یا شر جو بھی لفظ بولتا ہے ﴿ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ تو ایک نگران موجود ہوتا ہے، جو اس کے پاس ہر حال میں موجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰؔفِظِیْنَۙ۰۰كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ۰۰ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ (الانفطار:82؍10-12) اور بے شك تم پر نگہبان مقرر ہیں، بلند مرتبہ کاتب، جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب جانتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ما يَلْفِظُ من قولٍ}: خير أو شرٍّ {إلاَّ لديه رقيبٌ عتيدٌ}؛ أي: مراقب له، حاضرٌ لحاله؛ كما قال تعالى: {وإنَّ عليكم لحافظينَ. كراماً كاتبينَ. يعلمون ما تفعلون}.