تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 16

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۚۖ وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ ﴿۱۶﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتاہے اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ En
اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں
En
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ انسان کی جنس مرد اور عورت کو پیدا کرنے میں وہ تنہا ہے۔ وہ انسان کے تمام احوال کو جنھیں وہ چھپاتا ہے اور اس کا نفس اسے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے، خوب جانتا ہے اور وہ ﴿ اَ٘قْ٘رَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔ جو انسان کے سب سے زیادہ قریب والی رگ ہے، اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز انسان کو اپنے خالق کے مراقبے کی دعوت دیتی ہے، جو اس کے ضمیر اور اس کے باطن سے مطلع ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کے قریب والی رگ ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے اس کو روکا ہے، اس لیے کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے، اور جس کام کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے ترک نہ کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه المتفرِّد بخلق جنس الإنسان ذكورِهم وإناثِهم، وأنَّه يعلم أحواله وما يُسِرُّه وتوسوس به نفسه ، وأنه {أقربُ إليه من حبلِ الوريدِ}: الذي هو أقرب شيء إلى الإنسان، وهو [العرق] المكتنف لثُغرة النحر. وهذا ممّا يدعو الإنسان إلى مراقبة خالقه، المطَّلع على ضميره وباطنه، القريب إليه في جميع أحواله، فيستحي منه أن يراه حيث نهاه، أو يفقده حيث أمره.