ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ق (50) — آیت 17

اِذۡ یَتَلَقَّی الۡمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیۡدٌ ﴿۱۷﴾
جب (اس کے ہر قول و فعل کو) دو لینے والے لیتے ہیں، جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔ En
جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں
En
جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ جبکہ دو (فرشتے) ضبط تحریر میں لانے والے اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے سب کچھ ریکارڈ [20] کرتے جاتے ہیں
[20] کراماً کاتبین کا ریکارڈ رکھنا :۔
ان میں سے ایک نیکی اور بھلائی کے اقوال و افعال ریکارڈ کر رہا ہے اور دوسرا جو بائیں طرف ہے وہ بدی کو ریکارڈ کر رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ فرشتے قلم اور دوات لے کر ہر بات کو قلمبند کر رہے ہوں۔ بلکہ اس کے اور بھی کئی طریقے ممکن ہیں۔ آج کا انسان ویڈیو کیسٹ تیار کر چکا ہے۔ جس کے ذریعہ انسان کے اقوال و افعال حرکات و سکنات، تصویر، لب و لہجہ غرض ہر چیز ایسی ریکارڈ ہوتی ہے کہ اصل اور نقل میں ذرہ بھر فرق نہیں رہتا اور اللہ کے فرشتوں کے وسائل تو انسان کے وسائل سے بہت زیادہ ہیں۔ عین ممکن ہے کہ انسان کے اپنے بدن پر، اس کے اعضاء پر، قرب و جوار کے مقامات پر اور فضا کے ذرات پر انسان کا ریکارڈ ضبط ہو رہا ہو۔ جسے ویڈیو کیسٹ کی طرح کسی بھی وقت پیش کیا جا سکتا اور متعلقہ انسان کو دکھایا جا سکتا ہو۔ پہلی آیت میں یہ مذکور تھا کہ تمہاری تمام حرکات و سکنات حتیٰ کہ تمہارے دلوں کے راز تک اللہ جانتا ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں شہادت کے لئے ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔