یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، سب لوگوں سے زیادہ سخت عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائے گا جنھوں نے شریک بنائے ہیں اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بے شک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بے شک وہ تکبر نہیں کرتے۔
En
(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے
یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیاده دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے اور ایمان والوں سے سب سے زیاده دوستی کے قریب آپ یقیناً انہیں پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں، یہ اس لئے کہ ان میں علما اور عبادت کے لئے گوشہ نشین افراد پائے جاتے ہیں اور اس وجہ سے کہ وه تکبر نہیں کرتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّاَشَدَّالنَّاسِعَدَاوَةًلِّلَّذِیْنَاٰمَنُواالْ٘یَهُوْدَوَالَّذِیْنَاَشْرَؔكُوْا﴾”آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو“ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّاَ٘قْ٘رَبَهُمْمَّوَدَّةًلِّلَّذِیْنَاٰمَنُواالَّذِیْنَقَالُوْۤااِنَّانَ٘صٰرٰى﴾”اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں “ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں:
(۱)﴿ مِنْهُمْقِسِّیْسِیْنَوَرُهْبَانًا ﴾”یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔“ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔
(۲) ﴿ وَّاَنَّهُمْلَایَسْتَكْبِرُوْنَ۠﴾”اور وہ تکبر نہیں کرتے۔“ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى في بيان أقرب الطائفتين إلى المسلمين وإلى ولايتهم ومحبَّتهم وأبعدهم من ذلك: {لتجدنَّ أشدَّ الناس عداوةً للذين آمنوا اليهود والذين أشركوا}: فهؤلاء الطائفتان على الإطلاق أعظم الناس معاداةً للإسلام والمسلمين وأكثرهم سعياً في إيصال الضَّرر إليهم، وذلك لشدة بغضهم لهم بغياً وحسداً وعناداً وكفراً. {ولتجدنَّ أقربهم مودَّة للذين آمنوا الذين قالوا إنا نصارى}: وذكر تعالى لذلك عدة أسباب:
منها: أنَّ فيهم {قِسِّيسين ورُهباناً}؛ أي: علماء متزهِّدين وعباداً في الصوامع متعبِّدين، والعلم مع الزُّهد وكذلك العبادة مما يلطف القلب، ويرقِّقه، ويُزيل عنه ما فيه من الجفاء والغِلظة؛ فلذلك لا يوجد فيهم غلظة اليهود وشدة المشركين.
ومنها: {أنهم لا يستكبرون}؛ أي: ليس فيهم تكبُّرٌ ولا عتوٌّ عن الانقياد للحقِّ، وذلك موجبٌ لقربهم من المسلمين ومن محبَّتهم؛ فإنَّ المتواضع أقرب إلى الخير من المستكبر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔