تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ ……:} یہود و نصاریٰ کی مسلم دشمنی میں جو فرق مذکور ہوا یہ اس کی علت ہے، جس طرح یہود کے عالم کو حبر کہا جاتا ہے، جس کی جمع احبار ہے، اسی طرح نصاریٰ کے رئیس اور عالم قسیس کہلاتے ہیں، یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، جو واقعی عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے نسبتاً قریب ہیں، کیونکہ ان میں علم اور زہد یعنی دنیا سے بے رغبتی پائی جاتی ہے اور دین مسیحی میں نرمی اور عفوو درگزر کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پھر ان میں علماء، عبادت گزار اور زاہد لوگ بھی ہوتے ہیں، جو تواضع اختیار کرتے ہیں، یہودیوں کی طرح کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نصرانیوں میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔اللہ تعالیٰ نے فرمادیا، فرمایا: «وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ» [الحديد: ۲۷] ”اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔ “رہبانیت بے شک یہودیوں کی دنیا پرستی اور سخت دلی کے مقابلے میں قابل تعریف تھی، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رہبانیت ہر لحاظ سے قابل تعریف اور اچھی چیز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر یہود اور مشرکین کی نسبت نصرانیوں کو مسلمانوں کے زیادہ قریب قرار دیا۔ ورنہ جہاں تک خود اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا تعلق ہے تو بغض و عناد نصرانیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط لڑائیوں سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور اب تو اسلام کے خلاف مشرکین کے ساتھ یہودی اور نصرانی دونوں اکٹھے ہو گئے ہیں، اسی لیے قرآن نے مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ کی دوستی سے بھی منع فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و صفات دیکھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہو گئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جا کر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12318:مرسل]
یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی رحمة الله کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے { ان کے انتقال والے دن ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1318]
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہو گئے تھے۔“ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہو گئے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کر دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ”یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔“
یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔
ابن مردویہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4439:ضعیف]
ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لیے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً» ۱؎ [57-الحدید:27]، یعنی ’ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے رخسار پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بایاں رخسار بھی پیش کر دے ‘۔
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک شخص «قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا» پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «قِسِسِیْنٌ» کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صدیقین وَرُهْبَانًا» پڑھایا ہے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:6175:ضعیف جدا]
الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا، ان میں عابدوں کا ہونا، ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى في بيان أقرب الطائفتين إلى المسلمين وإلى ولايتهم ومحبَّتهم وأبعدهم من ذلك: {لتجدنَّ أشدَّ الناس عداوةً للذين آمنوا اليهود والذين أشركوا}: فهؤلاء الطائفتان على الإطلاق أعظم الناس معاداةً للإسلام والمسلمين وأكثرهم سعياً في إيصال الضَّرر إليهم، وذلك لشدة بغضهم لهم بغياً وحسداً وعناداً وكفراً. {ولتجدنَّ أقربهم مودَّة للذين آمنوا الذين قالوا إنا نصارى}: وذكر تعالى لذلك عدة أسباب:
منها: أنَّ فيهم {قِسِّيسين ورُهباناً}؛ أي: علماء متزهِّدين وعباداً في الصوامع متعبِّدين، والعلم مع الزُّهد وكذلك العبادة مما يلطف القلب، ويرقِّقه، ويُزيل عنه ما فيه من الجفاء والغِلظة؛ فلذلك لا يوجد فيهم غلظة اليهود وشدة المشركين.
ومنها: {أنهم لا يستكبرون}؛ أي: ليس فيهم تكبُّرٌ ولا عتوٌّ عن الانقياد للحقِّ، وذلك موجبٌ لقربهم من المسلمين ومن محبَّتهم؛ فإنَّ المتواضع أقرب إلى الخير من المستكبر.