تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 83

وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ تَرٰۤی اَعۡیُنَہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَقِّ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۳﴾
اور جب وہ سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا ہے تو توُ دیکھتا ہے کہ ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بہ رہی ہوتی ہیں، اس وجہ سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔ En
اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے
En
اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں، آنسو جاری ہو جاتے ہیں، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا: ﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰؔكُمْ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُ٘وْ٘نُوْا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُ٘وْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا (البقرۃ: 2؍143) اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومنها: أنهم {إذا سمعوا ما أنزِل} على محمد - صلى الله عليه وسلم -؛ أثَّر ذلك في قلوبهم وخشعوا له وفاضت أعينُهم بحسب ما سمِعوا من الحقِّ الذي تيقَّنوه؛ فلذلك آمنوا وأقرُّوا به، فقالوا: {ربَّنا آمنَّا فاكتُبْنا مع الشَّاهدين}: وهم أمة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -؛ يشهدونَ لله بالتوحيد، ولرسله بالرسالة وصحَّة ما جاؤوا به، ويشهدون على الأمم السابقة بالتصديق والتكذيب، وهم عدولٌ، شهادتهم مقبولةٌ؛ كما قال تعالى: {وكذلك جعلناكم أمَّةً وسطاً لتكونوا شهداء على النَّاس ويكونَ الرسول عليكم شهيداً}.