تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَوْكَانُوْایُؤْمِنُوْنَبِاللّٰهِوَالنَّبِیِّوَمَاۤاُنْزِلَاِلَیْهِمَااتَّؔخَذُوْهُمْاَوْلِیَآءَ ﴾”اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔“ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔
چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّكَثِیْرًامِّؔنْهُمْفٰسِقُوْنَ﴾”لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولو كانوا يؤمنون باللهِ والنبيِّ وما أُنزِلَ إليه ما اتَّخذوهم أولياءَ}؛ فإنَّ الإيمان بالله وبالنبيِّ وما أُنزِلَ إليه يوجب على العبد موالاة ربِّه وموالاة أوليائه ومعاداة من كفر به وعاداه وأوضع في معاصيه؛ فشرط ولاية الله والإيمان به أن لا يَتَّخِذَ أعداء الله أولياء، وهؤلاء لم يوجَدْ منهم الشرطُ، فدلَّ على انتفاء المشروط. {ولكن كثيراً منهم فاسقون}؛ أي: خارجون عن طاعة الله والإيمان به وبالنبيِّ، ومن فسقهم موالاة أعداء الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔