اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے، جو تم کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔ بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔
En
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آ چکا جو تمہارے سامنے کتاب اللہ کی بکثرت ایسی باتیں ﻇاہر کر رہا ہے جنہیں تم چھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آ چکی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا۔ اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہش مند کے لیے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تو ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امورکو کھول کھول کر بیان کر دینا جو وہ چھپاتے تھے، دراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً: ان کی کتابوں میں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔
﴿وَیَعْفُوْاعَنْكَثِیْرٍ﴾”اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے“ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدْجَآءَؔكُمْمِّنَاللّٰهِنُوْرٌؔ ﴾”تحقیق آ گیا تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور“ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے ﴿وَّكِتٰبٌمُّبِیْنٌ﴾”اور روشن کتاب۔“ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کر دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى ما أخذه الله على أهل الكتاب من اليهود والنصارى، وأنهم نَقَضوا ذلك إلاَّ قليلاً منهم؛ أمرهم جميعاً أن يؤمنوا بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، واحتجَّ عليهم بآيةٍ قاطعةٍ دالةٍ على صحة نبوَّته، وهي أنَّه يبيِّن لهم كثيراً مما يخفون عن الناس، حتَّى عن العوامِّ من أهل مِلَّتِهم؛ فإذا كانوا هم المشار إليهم في العلم ولا علم عند أحد في ذلك الوقت إلاَّ ما عندهم؛ فالحريص على العلم لا سبيل له إلى إدراكه إلاَّ منهم؛ فإتيان الرسول - صلى الله عليه وسلم - بهذا القرآن العظيم الذي بيَّن به ما كانوا يتكاتمونه بينهم، وهو أميٌّ لا يقرأ ولا يكتبُ من أدلِّ الدَّلائل على القطع برسالته، وذلك مثل صفة محمدٍ في كتبهم، ووجود البشائر به في كتبهم، وبيان آية الرجم ... ونحو ذلك، {ويعفو عن كثيرٍ}؛ أي: يترك بيانَ ما لا تقتضيه الحكمة.
{قد جاءكم من الله نورٌ}: وهو القرآن يُستضاء به في ظُلُمات الجهالة وعماية الضَّلالة، {وكتابٌ مبينٌ}: لكلِّ ما يحتاجُ الخلق إليه من أمور دينهم ودُنياهم؛ من العلم بالله وأسمائِهِ وصفاتِهِ وأفعاله، ومن العلم بأحكامه الشرعيَّة وأحكامه الجزائيَّة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔