تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ:} نور سے مراد اﷲ تعالیٰ کی کتاب ہی ہے۔ واؤ عاطفہ دونوں کو الگ الگ بتانے کے لیے نہیں بلکہ تفسیر کے لیے ہے، یعنی کتاب مبین اس نور کی تفسیر ہے، جس کی واضح دلیل ایک تو اس سے بعد والی یہ آیت ہے: «يَهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ» یعنی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے۔ اب اس آیت میں اگر نور اور کتاب مبین الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ {” يَهْدِيْ بِهِمَا اللّٰهُ “} (اﷲ ان دونوں کے ساتھ ہدایت دیتا ہے) ہوتے۔ دوسری جگہ خود اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نور قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: «فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [الأعراف: ۱۵۷] ”سو وہ لوگ جو اس رسول پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ معلوم ہوا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اترنے والی کتاب ہی نور ہے۔ اسی طرح فرمایا: { «فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا» } [التغابن: ۸] ”سو تم اﷲ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا۔“ قرآن مجید کے لیے نور کا لفظ سورۂ نساء اور دوسرے مقامات میں بھی آیا ہے، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا» [النساء: ۱۷۴] ”اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔“
بعض مفسرین نے نور سے مراد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب مبین سے مراد قرآن مجید لیا ہے۔ اس صورت میں بھی معنی یہ ہو گا کہ اﷲ کی طرف سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روشنی بن کر اور قرآن ایک کتاب مبین بن کر آئے ہیں، جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے، یعنی آپ ایک تو ہدایت کا نور ہیں، دوسرا {” نُوْرٌ مِنَ اللهِ “} یعنی اﷲ کی طرف سے آنے والے نور ہیں جو اﷲ کی مخلوق ہیں نہ کہ {” نُوْرٌ مِنْ نُوْرِ اللهِ “} یعنی اﷲ کے نور میں سے نور کا ایک ٹکڑا ہیں کہ اﷲ کا حصہ ہوں یا خود ہی اﷲ ہوں۔ یہ تو وہی نصرانیوں والا عقیدہ ہے کہ انھوں نے مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنایا اور ان حضرات نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کا ٹکڑا بنا دیا۔ سورۂ اخلاص اس گندے اور شرکیہ عقیدے کی خوب تردید کرتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری۔ کتاب المحاربین۔ باب الرجم بالبلاط۔ مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب رجم الیہود اہل الذمۃ فی الزنیٰ]
یا جیسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے متعلق سب آیات کو چھپا جاتے تھے۔
[42] اگرچہ اس آیت میں بعض علماء نے نور سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات با برکات بھی لی ہے تاہم اکثر مفسرین نور کو کتاب مبین ہی کی صفت قرار دیتے ہیں اور واؤ کو عطف مغائرت کے بجائے عطف تفسیری سمجھتے ہیں اور اس کی وجہ درج ذیل ہیں۔
1۔ اس آیت کی ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پہلے ہی آچکا ہے۔ یہ آیت یوں شروع ہوتی ہے۔
﴿يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا ......﴾
2۔ اگر نور اور کتاب مبین دو الگ الگ چیزیں ہوتیں تو بعد والی آیت میں ﴿يَهْدِي بِهِ اللّٰهُ﴾ کے بجائے ﴿يَهْدِيْ بهِمَا اللّٰهُ﴾ آنا چاہیے تھا۔
3۔ قرآن میں قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں کو ہی بہت سے مقامات پر نور کہا گیا ہے مثلاً:
1۔ ﴿وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا﴾ [4: 175] اور ہم نے تمہاری طرف نور مبین نازل کیا (قرآن کے لیے)
2۔ ﴿اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْريٰةَ فِيْهَا هُدًي وَّنُوْرٌ﴾ [5: 65] ہم نے ہی تورات اتاری جس میں ہدایت اور نور تھا (تورات کے لیے)
3۔ ﴿وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًي وَّنُوْرٌ﴾ [5: 46] اور ہم نے (سیدنا عیسیٰؑ) کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا (انجیل کے لیے)
4۔ ﴿مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسيٰ نُوْرًا وَّهُدًي لِّلنَّاسِ﴾ [6: 16] وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسیٰ لائے تھے جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی (تورات کے لیے)۔
5۔ ﴿وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِيْ اَنْزَلَ مَعَهُ﴾ [7: 157] اور اس نور کی پیروی کی جسے ہم نے آپ کے ساتھ اتارا ہے (قرآن کے لیے)
6۔ ﴿وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهِ مَنْ نَشَاءُ﴾ [42: 52] لیکن ہم نے اس کو نور بنایا جس سے ہم جسے چاہیں ہدایت دیتے ہیں (قرآن کے لیے)
7۔ ﴿فَامَنِوُاْ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَالنُّوْرِ الَّذِيْ اَنْزَلْنَا﴾ [64: 8] تو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس نور پر بھی جسے ہم نے اتارا ہے۔ (قرآن کے لیے)
﴿ وَّدَاعِيًا اِلَي اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا﴾
کا ترجمہ یوں ہے ”اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا ہے اور چمکا دینے والا نور ہے“ (کنز الایمان) اور حاشیہ یوں ہے ”در حقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نور نبوت نے پہنچائی اور کفر و ضلالت کے ظلمات شدیدہ کو اپنے نور حقیقت افروز سے دور کر دیا اور خلق کے لیے معرفت الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کر دیں اور ضلالت کی تاریک وادیوں میں راہ گم کرنے والوں کو اپنے نور ہدایت سے راہ یاب فرمایا اور اپنے نور نبوت سے ضمائر اور قلوب و ارواح کو منور کیا۔“ (خزائن العرفان) اگر یہ معاملہ یہیں تک محدود رہتا تو پھر بھی اختلاف کی کوئی بات نہ تھی۔ بھلا کون مسلمان ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور نبوت اور نور ہدایت ماننے کو تیار نہ ہو گا۔ اختلاف اس وقت واقع ہوا جب کچھ غالی قسم کے حضرات نے یہ مسئلہ پیدا کر دیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں یا بشر؟ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں تھے بلکہ نور تھے اور جو لوگ آپ کو بشر کہتے تھے انہیں گستاخان رسول کا لقب دیا گیا۔ اور جو آپ کو نور تسلیم کریں انہیں عاشقان رسول کا۔
1۔
«ان اول ما خلق اللہ نورنبيك يا جابر»
اے جابر! اللہ نے سب سے پہلے تیرے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نور کو پیدا کیا) اسی حدیث کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان اول ماخلق اللہ نوري» (بے شک پہلی چیز جو اللہ نے پیدا کی وہ میرا نور تھا) یہ حدیث مصنف عبد الرزاق کی ہے اور بلا سند ہے۔ مصنف عبد الرزاق چوتھے درجہ کی حدیث کی کتاب ہے جس میں ضعیف اور موضوع احادیث کی بھرمار ہے۔ پھر بلا سند حدیث ویسے بھی محدثین کے نزدیک مردود اور ناقابل اعتبار ہوتی ہے۔
2۔ حکیم ترمذی کی کتاب نوادر الاصول میں ذکوان سے روایت کی گئی ہے کہ ”سورج اور چاند کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں ہوتا تھا“ اب نوادر الاصول کی حدیث کی کتابوں میں جو قدر و قیمت ہے وہ سب جانتے ہیں۔ حکیم ترمذی خود طبقہ صوفیاء سے تعلق رکھتے تھے۔ جن سے محدثین «اخذته غفلة الصالحين» کہہ کر کوئی حدیث قبول کرنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ اور یہ ذکوان خود تابعی ہیں (صحابی نہیں ہیں) پھر جب انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہی نہیں تو ان کے متعلق ایسی محیر العقول بات کیسے کہہ سکتے ہیں اور اگر کسی صحابی سے سنا تھا تو اس کا نام کیوں نہیں بتاتے۔ غرض یہ حدیث بھی ہر لحاظ سے ساقط الاعتبار اور موضوع ہے۔ علاوہ ازیں اس حدیث کے باقی راوی بھی کذاب اور مفتری قسم کے ہیں۔
3۔ تیسری حدیث یوں ہے ”سیدہ عائشہؓ کے ہاتھ سے سوئی گر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد چہرہ یا مسکراہٹ کی روشنی کی وجہ سے وہ مل گئی۔“ اس حدیث کو اور اس سے پہلی سایہ والی حدیث دونوں پر تبصرہ کرنے کے بعد سید سلیمان ندوی نے موضوع قرار دیا ہے۔ [سيرة النبى ج 3 ص 775، 776] پھر یہ احادیث عقلی لحاظ سے بھی ساقط الاعتبار ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج سے بھی زیادہ روشنی تھی اور اس بات کا تقاضا یہ ہے کہ کم از کم مکہ اور مدینہ میں رات کا اور تاریکی کا وجود ہی باقی نہ رہتا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے آرام کے لیے بنایا اور اپنی عظیم نعمتوں سے شمار کیا ہے۔ پھر یہ بھی غور فرمائیے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی سورج جیسی تھی تو پھر گھر میں داخل ہونے پر گمشدہ سوئی ملنے کا کیا مطلب؟ سورج کی روشنی تو از خود ہر جگہ پہنچ جاتی ہے۔ اب ان موضوع احادیث کے مقابلہ میں صحیح احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔
2۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ”ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا۔ میں نے گمان کیا کہ شاید وہ کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہوں پھر جب میں نے ٹٹولنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ آپ سجدہ میں تھے۔“ [نسائي جلد 2 ص 86] اس حدیث سے ان لوگوں کے اس نظریہ کی تردید ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے یا آپ سے سورج اور چاند جیسی روشنی پھوٹتی تھی جس سے گم شدہ سوئی بھی نظر آسکے۔
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں رات کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (تہجد) ادا کرتے تو میں آپ کے سامنے پاؤں دراز کئے پڑی ہوتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے لگتے تو مجھے ہاتھ لگاتے تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرماتے تو میں پاؤں لمبے کر لیتی۔
[بخاری۔ کتاب التہجد۔ باب مایجوز من العمل من الصلوۃ]
اس حدیث سے اس نظریہ ’نور‘ کی تردید ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے دوران بھی گھر میں اندھیرا ہی رہتا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ لگا کر سیدہ عائشہؓ کو متنبہ کرتے تھے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے والے ہیں۔ نظریہ نور والی حدیث در اصل یونانی فلسفہ سے متاثر ہو کر گھڑی گئی۔ فلاسفر جس چیز کو عقل دوم کہتے ہیں صوفیاء اسے ہی نور محمدی کہتے ہیں۔ اب اس موضوع حدیث کی مزید تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے جابر! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے اپنے نور سے تیرے نبی کا نور پیدا کیا۔ پھر وہ نور قدرت الٰہیہ ہے جہاں اللہ کو منظور ہوا سیر کرتا رہا اور اس وقت نہ لوح تھی، نہ قلم، نہ بہشت نہ دوزخ، نہ آسمان و زمین، نہ سورج چاند، نہ جن اور نہ انسان۔ پھر جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کیے۔ حصہ اول کا قلم بنایا۔ حصہ دوم کی لوح، تیسرے حصہ کا عرش اور چوتھے سے کل کائنات [شرح قصيده حمزيه 15 بحواله رياض السالكين ص 248] یہ حدیث سننے کے بعد ممکن ہے آپ کو یہ معلوم کرنے کی خواہش ہو کہ اس نور نبی کو پیدا ہوئے کتنی مدت ہو چکی تھی؟ تو لیجئے اس کے لیے بھی ایک موضوع حدیث حاضر خدمت ہے۔
”سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیلؑ سے پوچھا کہ تمہاری عمر کتنی ہے؟ جبرئیل نے عرض کی ”آقا! میں اپنی عمر ٹھیک طرح سے نہیں جانتا مگر اتنا جانتا ہوں کہ چوتھے حجاب میں ایک ستارہ تھا جو ستر ہزار سال کے بعد طلوع ہوا کرتا تھا اور میں نے اس کو بہتر ہزار مرتبہ دیکھا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے پروردگار کے عزت و جلال کی قسم! وہ ستارہ میں ہی ہوں۔“ اب دیکھئے کہ جبرئیل نے اپنی عمر 70000 x 2000=7 پانچ ارب چون کروڑ سال بتائی ہے اور یہ ستارہ یعنی نور نبی اس سے بہرحال مدتوں پہلے کا تھا۔ اس موضوع حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نور کی عمر نہیں بتائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس ’حدیث تراش‘ کو اس سے زیادہ حساب آتا ہی نہ تھا۔ پھر یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اس نور نبی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چہرے کے نور سے پیدا کیا تھا۔ کیونکہ اس بات کا اقرار اللہ تعالیٰ خود ان الفاظ میں فرما رہے ہیں (گویا یہ موضوع حدیث حدیث قدسی ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا کیا۔“ اور چہرہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس ہے۔ [سر الاسرار 116 سطر 8 بحواله رياض السالكين ص 90] پھر اللہ تعالیٰ نے اس موضوع قدسی حدیث کی تائید ایک اور موضوع قدسی حدیث سے فرما دی جو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”تو میں ہوں اور میں تو ہے“ [جواهر غيبي 282 بحواله رياض السالكين ص 92] اسی موضوع قدسی حدیث کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی کہ (میں اللہ کے نور سے ہوں اور کل میرے نور سے ہیں) [مدارج النبوت ج 2 ص 60 بحواله رياض السالكين ص 249] اب بات یوں ہوئی کہ اللہ نے سب سے پہلے نور محمدی کو پیدا کیا اور یہ نور ایک ستارہ تھا یا ایک ستارہ میں تھا۔ جس سے سیدنا جبریل نے اپنی عمر کا حساب بتلایا تھا۔ اب اس نور محمدی یا ستارہ سے ہی عرش، لوح و قلم، کرسی، بہشت دوزخ اور شمس و قمر اور باقی ساری کائنات پیدا کیے جا رہے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ کائنات کی ہر چیز میں نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے اب اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے ایک اور موضوع اور قدسی حدیث گھڑی گئی جو یہ ہے۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”میری عزت اور جلال کی قسم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تم نہ ہوتے تو میں دنیا کو پیدا ہی نہ کرتا۔“ [رياض السالكين ص 244] اور ایک دوسری موضوع قدسی حدیث یوں بھی آئی ہے۔ «لولاك لما خلقت الافلاك» [رياض السالكين ص 191] یعنی اگر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم نہ ہوتے تو میں کائنات کی کوئی چیز بھی پیدا نہ کرتا۔ پھر اس کی تائید میں ایک اور موضوع حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے:
جب سیدنا آدم جنت سے نکال کر دنیا میں بھیجے گئے تو ہر وقت روتے اور استغفار کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو عرض کی ”اے باری تعالیٰ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے مغفرت چاہتا ہوں۔“ وحی نازل ہوئی کہ ”بتاؤ تو محمد کون ہیں؟“ عرض کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیدا کیا تو میں نے عرش پر لکھا ہوا دیکھا «لا اله الا الله محمد رسول الله» میں سمجھ گیا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اونچی ہستی نہیں ہے۔ جس کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام کے ساتھ لکھ رکھا ہے۔ وحی نازل ہوئی کہ وہ خاتم النبیین ہیں۔ تمہاری اولاد میں سے ہیں لیکن وہ نہ ہوتے تو تم بھی پیدا نہ کیے جاتے۔ [رياض السالكين ص 302] اب دیکھئے کہ ان موضوع حدیث میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ پھر سیدنا آدمؑ کی توبہ قبول بھی ہوئی تھی یا نہیں۔ الٹا اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر سیدنا آدمؑ کو اور بھی مایوس کر دیا کہ ”اگر وہ نہ ہوتے تو تم بھی نہ ہوتے۔“ غور فرمائیے کہ اگر کسی سائل مغفرت کو ایسا جواب دیا جائے تو اس کے دل پر کیا بیتتی ہے؟ البتہ اس حدیث نے اور کئی مسئلے حل کر دیئے مثلاً: (1) خواہ کتنے ہی برس اللہ سے رو رو کر مغفرت چاہیں قبول نہیں ہوتی جب تک کسی کا وسیلہ نہ پکڑیں اور یہ بات قرآن کی تعلیم:
﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾
کے بالکل برعکس ہے۔
2۔ پھر یہ وسیلہ اپنے نیک اعمال یا کسی زندہ بزرگ ہستی کا نہیں بلکہ ایسی ہستی کا بھی ہو سکتا ہے جو ابھی تک وجود میں نہ آئی ہو۔ یا پاس موجود نہ ہو۔ کاش یہ باتیں سیدنا آدم کو اتنی مدت رونے سے پہلے ہی معلوم ہو جاتیں۔
﴿وَيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا﴾ [2: 143]
اور رسول تم پر گواہ یعنی حاضر و ناظر رہتے ہیں۔ جب رسول پاک ہر وقت گواہ رہتے ہیں تو پھر اپنے امتی کے اعمال سے باخبر ہیں کہ فلاں کے اعمال کیسے ہیں اور دین کے کس درجہ میں ہے؟ [رياض السالكين ص 234] حاضر و ناظر کی یہ دلیل تو خوب ہے مگر مشکل یہ ہے کہ اس آیت کا اگلا حصہ یوں ہے
﴿لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ﴾
پھر کیا تمام صحابہ کرام بھی حاضر و ناظر ہیں جو دوسرے لوگوں کے گواہ اور ان کے اعمال کے نگران ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ کی خصوصیت کیا رہی؟ البتہ اس کھینچا تانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر ثابت کرنے کا ایک فائدہ ضرور ہو جاتا ہے جو یہ ہے کہ تمام پیروں فقیروں یعنی اولیاء اللہ کے حاضر و ناظر ہونے اور اپنے مریدوں کے اعمال پر نگران بنے رہنے کا راستہ صاف ہو جاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے نور سے نور ثابت کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ یا نور کو موت نہیں اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی دائمی زندگی ثابت کی جاتی ہے اور تصرف فی الامور بھی۔ اگر یہ کام نہ کیا جاتا تو پیروں، فقیروں اور بزرگوں یعنی اولیاء کرام کی موت کے بعد دائمی زندگی اور تصرف فی الامور کا راستہ کبھی بھی صاف نہ ہو سکتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مستدرک حاکم میں ہے ”جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔“ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔
پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى ما أخذه الله على أهل الكتاب من اليهود والنصارى، وأنهم نَقَضوا ذلك إلاَّ قليلاً منهم؛ أمرهم جميعاً أن يؤمنوا بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، واحتجَّ عليهم بآيةٍ قاطعةٍ دالةٍ على صحة نبوَّته، وهي أنَّه يبيِّن لهم كثيراً مما يخفون عن الناس، حتَّى عن العوامِّ من أهل مِلَّتِهم؛ فإذا كانوا هم المشار إليهم في العلم ولا علم عند أحد في ذلك الوقت إلاَّ ما عندهم؛ فالحريص على العلم لا سبيل له إلى إدراكه إلاَّ منهم؛ فإتيان الرسول - صلى الله عليه وسلم - بهذا القرآن العظيم الذي بيَّن به ما كانوا يتكاتمونه بينهم، وهو أميٌّ لا يقرأ ولا يكتبُ من أدلِّ الدَّلائل على القطع برسالته، وذلك مثل صفة محمدٍ في كتبهم، ووجود البشائر به في كتبهم، وبيان آية الرجم ... ونحو ذلك، {ويعفو عن كثيرٍ}؛ أي: يترك بيانَ ما لا تقتضيه الحكمة.
{قد جاءكم من الله نورٌ}: وهو القرآن يُستضاء به في ظُلُمات الجهالة وعماية الضَّلالة، {وكتابٌ مبينٌ}: لكلِّ ما يحتاجُ الخلق إليه من أمور دينهم ودُنياهم؛ من العلم بالله وأسمائِهِ وصفاتِهِ وأفعاله، ومن العلم بأحكامه الشرعيَّة وأحكامه الجزائيَّة.