تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 14

وَ مِنَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰۤی اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَہُمۡ فَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوۡا بِہٖ ۪ فَاَغۡرَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ سَوۡفَ یُنَبِّئُہُمُ اللّٰہُ بِمَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا بے شک ہم نصاریٰ ہیں، ہم نے ان کا پختہ عہد لیا، پھر وہ اس کا ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور کینہ روی بھڑکا دی اور عنقریب اللہ انھیں اس کی خبر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا
En
اور جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد وپیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے بھی ان کے آپس میں بغض وعداوت ڈال دی جو تاقیامت رہے گی اور جو کچھ یہ کرتے تھے عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں سب بتا دے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا ﴿وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَ٘صٰرٰۤى اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں۔ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مددگار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا ﴿فَنَسُوْا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّ٘رُوْا بِهٖ پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہو گئے ﴿ فَاَغْ٘رَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَؔ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک یعنی ہم نے انھیں ایک دوسرے پر مسلط کر دیا، ان کے درمیان شر و فساد اور کینہ نے جنم لیا جو قیامت تک کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عداوت کا باعث ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا مشاہدہ کیاجا سکتا ہے کیونکہ نصاریٰ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بغض، مخالفت اور عداوت رکھتے چلے آ رہے ہیں ﴿وَسَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ اور عنقریب اللہ ان کو خبر دے گا، جو کچھ وہ کرتے تھے اور انھیں ان کی کارستانیوں پر عذاب دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وكما أخذنا على اليهود العهد والميثاق؛ فكذلك أخذنا على الذين قالوا: إنَّا نصارى لعيسى ابن مريم، وزَكَّوا أنفسَهم بالإيمان بالله ورسُله، وما جاؤوا به فنقضوا العهد، ونسوا حَظًّا مما ذُكِّروا به نسياناً علمياً ونسياناً عملياً، {فأغرينا بينَهم العداوةَ والبغضاء إلى يوم القيامة}؛ أي: سَلَّطْنا بعضهم على بعض، وصار بينهم من الشرور والإحن ما يقتضي بغض بعضهم بعضاً ومعاداة بعضهم بعضاً إلى يوم القيامة، وهذا أمرٌ مشاهَدٌ؛ فإن النَّصارى لم يزالوا ولا يزالون في بغض وعداوةٍ وشقاقٍ، {وسوف ينبِّئهم الله بما كانوا يصنعون}: فيعاقبهم عليه.