تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 16

یَّہۡدِیۡ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ بِاِذۡنِہٖ وَ یَہۡدِیۡہِمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۶﴾
جس کے ساتھ اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے اور انھیں اپنے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ En
جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے
En
جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف ﻻتا ہے اور راه راست کی طرف ان کی رہبری کرتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ﴿یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّ٘بَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰ٘مِ اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضامندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔
﴿وَیُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿اِلَى النُّوْرِ روشنی کی طرف ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ﴿وَیَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ مَنْ الذي يَهْتَدي بهذا القرآن، وما هو السبب الذي من العبد لحصول ذلك، فقال: {يهدي به اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضوانَه سبل السلام}؛ أي: يهدي مَن اجتهد وحرص على بلوغ مرضاة الله وصار قصده حسناً سُبُلَ السلام التي يَسْلَمُ صاحبها من العذاب وتوصِلُه إلى دار السلام، وهو العلم بالحقِّ والعمل به إجمالاً وتفصيلاً. ويخرِجُهم من ظُلمات الكفر والبدعة والمعصية والجهل والغَفْلة، إلى نور الإيمان والسُّنَّة والطاعة والعلم والذِّكر، وكل هذه من الهداية بإذن الله الذي ما شاء كان وما لم يشأ لم يكن، {ويهديهم إلى صراطٍ مستقيم}.