بے شک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، پھر جس نے عہد توڑا تو در حقیقت وہ اپنی ہی جان پر عہد توڑتا ہے اور جس نے وہ بات پوری کی جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ اسے جلد ہی بہت بڑا اجر دے گا۔
En
جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا
جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وه یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، تو جو شخص عہد شکنی کرے وه اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ بیعت جس کی طرف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ”بیعت رضوان“ ہے، اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہیں ہوں گے۔ یہ ایک خاص معاہدہ ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہ ہوں، خواہ بہت ہی تھوڑے لوگ کیوں نہ باقی رہ جائیں اور خواہ ایسی صورت حال میں ہوں جہاں فرار ہونا جائز ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں، حقیقتِ امر یہ ہے کہ وہ ﴿ یُبَایِعُوْنَاللّٰهَ﴾ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ یہ اس کی شدت تاکید ہے کہ فرمایا: ﴿یَدُاللّٰهِفَوْقَاَیْدِیْهِمْ﴾”اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔“ گویا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت کی ہے اور اس بیعت میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مصافحہ کیا ہے۔ یہ سب کچھ زیادہ تاکید، تقویت اور ان کو اس بیعت کے پورا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا، بنابریں فرمایا: ﴿فَ٘مَنْنَّـكَثَ﴾”پس جو بیعت کو توڑے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اسے پورا نہ کرے ﴿فَاِنَّمَایَنْكُثُعَلٰىنَفْسِهٖ﴾”تو بے شک عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔“ کیونکہ اس کا وبال اسی کی طرف لوٹے گا اور اس کی سزا اسی کو ملے گی۔ ﴿وَمَنْاَوْفٰىبِمَاعٰهَدَعَلَیْهُاللّٰهَ ﴾”اور جو اس بات کو جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے، پورا کرے۔“ یعنی اس معاہدے پر کامل طور پر عمل کرے ﴿فَسَیُؤْتِیْهِاَجْرًاعَظِیْمًا﴾”تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا۔“ اس اجر کی عظمت اور قدر کو صرف وہی جان سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ یہ اجر عطا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه المبايعةُ التي أشار الله إليها هي بيعة الرضوان، التي بايع الصحابةُ رضي الله عنهم فيها رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - على أن لا يفرُّوا عنه؛ فهي عقدٌ خاصٌّ، من لوازمه أن لا يفرُّوا، ولو لم يبقَ منهم إلاَّ القليلُ، ولو كانوا في حال يجوزُ الفرارُ فيها. فأخبر تعالى: {إنَّ الذين يبايِعونَك}: حقيقةُ الأمرِ أنَّهم {يبايِعونَ الله}: ويعقِدونَ العقد معه، حتى إنه من شدَّة تأكُّده أنَّه قال: {يدُ الله فوق أيديهم}؛ أي: كأنهم بايعوا الله وصافحوه بتلك المبايعة، وكلُّ هذا لزيادة التأكيد والتقوية، وحملهم على الوفاء بها، ولهذا قال: {فمن نكث}: فلم يفِ بما عاهد الله عليه، {فإنَّما ينكُثُ على نفسه}؛ أي: لأنَّ وَبال ذلك راجعٌ إليه وعقوبتَه واصلةٌ له، {ومن أوفى بما عاهَدَ عليهُ اللهَ}؛ أي: أتى به كاملاً موفراً، {فسيؤتيه أجراً عظيماً}: لا يعلم عِظَمَه وقَدْرَه إلاَّ الذي آتاه إيَّاه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔