تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا یہ ارشاد مرتب فرمایا: ﴿ لِّتُؤْمِنُوْابِاللّٰهِوَرَسُوْلِهٖ٘﴾ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمھیں دعوت اور ان امور کی تعلیم دینے کے سبب سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جن میں تمھارا فائدہ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو تمام امور میں ان دونوں کی اطاعت کو مستلزم ہے۔ ﴿ وَتُعَزِّرُوْهُوَتُوَقِّ٘رُوْهُ﴾ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب کرو، آپ کی توقیر یعنی تعظیم کرو، آپ کو مرتبے میں بڑا تسلیم کرو اور آپ کے حقوق کو ادا کرو جیسا کہ تمھاری گردنوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا احسان ہے۔ ﴿ وَتُسَبِّحُوْهُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ﴿ بُؔكْرَةًوَّاَصِیْلًا﴾ صبح و شام۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ حق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان مشترک ہے، یعنی ان دونوں پر ایمان۔ ایک حق وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختص ہے اور وہ ہے آپ کی تعظیم و توقیر اور ایک حق وہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور وہ ہے نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس کی تسبیح و تقدیس۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا رتَّب على ذلك قوله: {لتؤمِنوا باللهِ ورسولِهِ}؛ أي: بسبب دعوة الرسول لكم وتعليمه لكم ما ينفعكم أرسلناه؛ لتقوموا بالإيمان بالله ورسولِهِ، المستلزم ذلك لطاعتهما في جميع الأمور، {وتعزِّروهُ وتوقِّروهُ}؛ أي: تعزِّروا الرسول - صلى الله عليه وسلم - وتوقِّروه؛ أي: تعظِّموه، وتجلُّوه، وتقوموا بحقوقِهِ، كما كانت له المنَّة العظيمةُ برقابكم، {وتسبِّحوه}؛ أي: تسبِّحوا لله {بكرةً وأصيلاً}: أول النهار وآخره.
فذكر الله في هذه الآية الحقَّ المشترك بين الله وبين رسوله، وهو الإيمان بهما، والمختصُّ بالرسول، وهو التعزير والتوقير، والمختصُّ بالله، وهو التسبيح له والتقديس بصلاةٍ أو غيرها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔