عنقریب بدویوں میں سے پیچھے چھوڑ دیے جانے والے تجھ سے کہیں گے کہ ہمارے اموال اور ہمارے گھر والوں نے ہمیں مشغول رکھا، سو تو ہمارے لیے بخشش کی دعا کر۔ وہ اپنی زبانوں سے کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ کہہ دے پھر کون ہے جو اللہ سے تمھارے لیے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو، اگر وہ تمھارے بارے میں کسی نقصان کا ارادہ کرے، یا وہ تمھارے ساتھ کسی فائدے کا ارادہ کرے، بلکہ اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔
En
جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل وعیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لئے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے
دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وه اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے ره گئے پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وه کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وه تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَقُوْلُوْنَبِاَلْسِنَتِهِمْ۠مَّالَ٘یْسَفِیْقُ٘لُوْبِهِمْ﴾”یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔
پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنْلَّ٘نْیَّنْقَلِبَالرَّسُوْلُوَالْمُؤْمِنُوْنَاِلٰۤىاَهْلِیْهِمْاَبَدًا﴾”کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔“ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:
(۱) وہ ﴿ قَوْمًۢابُوْرًا﴾ ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔
(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَنْلَّمْیُؤْمِنْۢبِاللّٰهِوَرَسُوْلِهٖ٘ ﴾”اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔“ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ٘اَعْتَدْنَالِلْ٘كٰفِرِیْنَسَعِیْرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذمُّ تعالى المتخلِّفين عن رسول الله في الجهاد في سبيله من الأعراب، الذين ضَعُفَ إيمانُهم وكان في قلوبهم مرضٌ وسوء ظنٍّ بالله تعالى، وأنهم سيعتذرون؛ بأنَّ أموالهم وأهليهم شغلتهم عن الخروج في سبيله، وأنَّهم طلبوا من رسول اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أن يستغفرَ لهم؛ قال الله تعالى: {يقولون بألسنَتِهِم ما ليس في قُلوبِهِم}: فإنَّ طلَبَهم الاستغفارَ من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يدلُّ على ندمهم وإقرارهم على أنفسهم بالذَّنب، وأنَّهم تخلَّفوا تخلُّفاً يحتاجُ إلى توبة واستغفار؛ فلو كان هذا الذي في قلوبهم؛ لكان استغفارُ الرسول نافعاً لهم؛ لأنَّهم قد تابوا وأنابوا، ولكنَّ الذي في قلوبهم أنَّهم إنَّما تخلَّفوا لأنَّهم ظنُّوا بالله ظنَّ السَّوْء، فظنُّوا {أن لن يَنقَلِبَ الرسولُ والمؤمنون إلى أهليهم أبداً}؛ أي: أنَّهم سيُقتلون ويُستأصلون، ولم يزلْ هذا الظنُّ يُزَيَّن في قلوبهم، ويطمئنُّون إليه حتى استحكَمَ، وسببُ ذلك أمران: أحدُهما: أنَّهم كانوا {قوماً بوراً}؛ أي: هلكى لا خير فيهم؛ فلو كان فيهم خيرٌ؛ لم يكن هذا في قلوبهم. الثاني: ضَعْفُ إيمانهم ويقينهم بوعد الله ونصرِ دينِهِ وإعلاءِ كلمتِهِ، ولهذا قال: {ومن لم يؤمن بالله ورسولِهِ}؛ أي: فإنَّه كافرٌ مستحقٌّ للعقاب، {فإنَّا أعْتَدْنا للكافرين سعيراً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔