تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور اس کا شرف بیان کرنے کے لیے فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ» ”بے شک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔“ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ» [النساء: ۸۰] ”اور جو رسول کی اطاعت کرے تو بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“ کیونکہ رسول، اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے، اس لیے اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور اس کے ہاتھ پر بیعت اس کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے بیعت ہے۔
➋ {يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ: ” يَدُ اللّٰهِ “} کا لفظی معنی ہے ”اللہ کا ہاتھ“ اور اللہ کے ہاتھ کی کیفیت مخلوق کے علم و ادراک سے بلند ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے فرمائے ہوئے الفاظ پر اکتفا کرنا چاہیے کہ ”اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔“ رہی یہ بات کہ کیسے ہے؟ تو یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ مفسرین نے یہاں مختلف تاویلیں کی ہیں اور سب تاویلوں کا باعث یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں جیسا سمجھا اور اس کا ہاتھ اوپر ہونے کو اپنا ہاتھ اوپر ہونے کی طرح سمجھا، اس لیے اس کا انکار کر دیا یا تاویل کر دی۔ حالانکہ یہ بات بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بھی یہ آیات سنیں، کسی نے تاویل کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، نہ کسی نے انکار کیا، جو الفاظ جس طرح آئے اسی طرح مان لیے۔ ہمیں بھی اس چکر میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اللہ کا ہاتھ کیسا ہے اور ان کے ہاتھوں کے اوپر کس طرح ہے۔
➌ بیعتِ رضوان وہ بیعت ہے جو حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ایک درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کی تھی۔ ان کی تعداد اکثر صحیح روایات کے مطابق چودہ سو تھی، بعض صحابہ نے پندرہ سو بھی بیان کی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ چودہ سو اور پندرہ سو دونوں روایتیں موجود ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تطبیق یہ دی ہے کہ ان کی تعداد چودہ سو اور پندرہ سو کے درمیان تھی، بعض اوقات زائد کو چھوڑ کر چودہ سو بیان کر دیے اور بعض اوقات درمیان کا عدد پورا کرکے پندرہ سو بیان کر دیے۔ احادیث میں ہے کہ ان تمام صحابہ نے یہ بیعت کی، صرف جد بن قیس نامی شخص نے بیعت نہیں کی۔
اس بیعت کا باعث یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ سے اہلِ مکہ کی طرف بات چیت کے لیے بھیجا کہ وہ مسلمانوں کو بیت اللہ کا عمرہ ادا کرنے سے نہ روکیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے واپس آنے میں دیر ہوئی تو افواہ پھیل گئی کہ انھیں قتل کر دیا گیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑنے کا پختہ ارادہ فرما لیا اور صحابہ کو بیعت کی دعوت دی۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو دفعہ بیعت کرنے کا ذکر کیا تو (ان کے شاگرد) یزید نے پوچھا: ” اے ابو مسلم! آپ اس دن کس چیز پر بیعت کرتے تھے؟“ انھوں نے فرمایا: ”موت پر۔“ [بخاري، الجہاد والسیر، باب البیعۃ في الحرب علٰی أن لا یفروا:۲۹۶۰] جبکہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ اس بات پر بیعت کی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب استحباب مبایعۃ الإمام الجیش…: ۶۸ /۱۸۵۶] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے موت پر بیعت کی اور بعض نے اس بات پر کہ ہم کسی صورت میدان سے فرار اختیار نہیں کریں گے اور دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے، کیونکہ کسی صورت نہ بھاگنے کا مطلب موت کے لیے تیار رہنا ہی ہے۔ چونکہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر یقینی نہیں تھی، بلکہ ان کے زندہ ہونے کا بھی امکان تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اس بیعت میں شریک فرما لیا۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلٰی مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنٰی هٰذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلٰی يَدِهِ، فَقَالَ هٰذِهِ لِعُثْمَانَ] [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عثمان بن عفان أبي عمرو القرشي رضی اللہ عنہ: ۳۶۹۹] ”اگر وادیٔ مکہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص عزت والا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بجائے اسے بھیجتے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا اور بیعتِ رضوان عثمان رضی اللہ عنہ کے مکہ جانے کے بعد ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔“ پھر اسے دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا: ”یہ عثمان کی بیعت ہے۔“ کفار کو جب اس بیعت کے متعلق پتا چلا تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا اور صلح کی کوششیں شروع کر دیں جس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ ہوئی۔
➍ {فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ:} یہ بات مسلم ہے کہ ان صحابہ میں سے کسی نے اس بیعت میں کیا ہوا عہد نہیں توڑا، خصوصاً اس لیے کہ یہ بیعت خونِ عثمان کے قصاص کے لیے لڑائی کے متعلق لی گئی تھی اور اس کا دورانیہ بیعت سے لے کر صلح ہونے تک تھا۔ اس بیعت سے حاصل شدہ رضوانِ الٰہی کے لیے اتنا ہی کافی ہے، اگرچہ بعدمیں بھی ان صحابہ میں سے کسی سے میدان جہاد سے فرار ثابت نہیں۔
➎ { وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ …:} اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو پورا کرنے والوں کے لیے اجرِ عظیم ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راضی ہو جانے کی بشارت کے بعد جو لوگ ان مبارک ہستیوں سے بغض یا عداوت رکھیں ان کی بدنصیبی میں کیا شک ہے۔
➏ {بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ:} جمہور قراء نے {” عَلَيْهُ “} کی ”ہاء“ پر کسرہ پڑھا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ضمیر اصل میں {”هُوَ“} ہے، واؤ حذف کرنے کے بعد بھی یہ مضموم ہی رہتی ہے، جیسے {” لَهُ “} اور {” ضَرَبَهُ “} میں ہے، البتہ اس سے پہلے ”یاء“ ہو تو اس کی رعایت سے اس پر کسرہ پڑھا جاتا ہے، جیسے {”فِيْهِ، إِلَيْهِ، عَلَيْهِ“} وغیرہ میں ہے۔ یہاں حفص نے جو اس پر ضمہ پڑھا ہے آلوسی نے اس کی دو مناسبتیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک کی تفصیل یہ ہے کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت اور عہد کا ذکر ہے جو لفظ {” اللّٰهَ “} کو ایسے طریقے سے ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے جس سے اس کی عظمت اور جلال کا اظہار ہوتا ہو کہ کتنی عظیم ہستی سے عہد کیا گیا ہے اور معلوم ہے کہ لفظ {” اَللّٰهُ “} سے پہلے اگر کسرہ ہو تو اس کے لام کو باریک پڑھاجاتا ہے، اسے تفخیم کے ساتھ (پر کر کے) نہیں پڑھا جاتا۔ اس لیے {” عَلَيْهُ “} کی ”ہاء“ پر کسرہ کے بجائے ضمہ لایا گیا ہے، تاکہ لفظ {” اللّٰهَ “} کی ادائیگی پوری شان و شوکت اور جلال و عظمت کے اظہار کے ساتھ ہو۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ {” عَلَيْهُ “} میں ”ہاء“ اصل میں {”هُوَ“} ہے، جیسا کہ پیچھے گزرا، لہٰذا اس کا اصل اعراب ضمہ ہے نہ کہ کسرہ، اس لیے اصل ضمہ کو باقی رکھنا اصل عہد کے قائم رکھنے اور پورا کرنے کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ حدیث مختصر ہے اس حدیث سے جس میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم سخت پیاسے ہوئے، پانی تھا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا انہوں نے جا کر حدیبیہ کے کنویں میں اسے گاڑ دیا اب تو پانی جوش کے ساتھ ابلنے لگا یہاں تک کہ سب کو کافی ہو گیا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس روز تم کتنے تھے؟ فرمایا: چودہ سو لیکن اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی اس قدر تھا کہ سب کو کافی ہو جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4840]
بخاری کی روایت میں ہے کہ پندرہ سو تھے ۱؎ [صحیح بخاری:25] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں پندرہ سو بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:80]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فی الواقع تھے تو پندرہ سو اور یہی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا پہلا قول تھا پھر آپ کو کچھ وہم سا ہو گیا اور چودہ سو فرمانے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سوا پندرہ سو تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4153]
لیکن آپ سے مشہور روایت چودہ سو کی ہے اکثر راویوں اور اکثر سیرت نویس بزرگوں کا یہی قول ہے کہ چودہ سو تھے ایک روایت میں ہے اصحاب شجرہ چودہ سو تھے اور اس دن آٹھواں حصہ مہاجرین کا مسلمان ہوا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4155]
ادھر ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وغیرہ کو روک لیا، ادھر یہ لوگ رک گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کر دی کہ روح القدس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیعت کا حکم دے گئے، آؤ اللہ کا نام لے کر بیعت کر جاؤ۔
اب کیا تھا مسلمان بے تابانہ دوڑے ہوئے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت درخت تلے تھے، سب نے بیعت کی اس بات پر کہ وہ ہرگز ہرگز کسی صورت میں میدان سے منہ موڑنے کا نام نہ لیں گے اس سے مشرکین کانپ اٹھے اور جتنے مسلمان ان کے پاس تھے سب کو چھوڑ دیا اور صلح کی درخواست کرنے لگے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیہقی:133/4:مرسل و ضعیف]
بیہقی میں ہے کہ { بیعت کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الٰہی! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام کو گئے ہوئے ہیں پس آپ نے خود اپنا ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا گویا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی۔ }
اس بیعت میں سب سے پہل کرنے والے سیدنا ابوسنان اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے سب سے آگے بڑھ کر فرمایا: اے اللہ کے رسول! ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کر لوں آپ نے فرمایا: ”کس بات پر بیعت کرتے ہو؟“ جواب دیا جو آپ کے دل میں ہو اس پر۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیہقی:137/4:مرسل و ضعیف] آپ کے والد کا نام وہب تھا۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جب ہم نے بیعت کی ہے اس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور آپ ایک ببول کے درخت تلے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1856]
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { اس موقعہ پر درخت کی ایک جھکی ہوئی شاخ کو آپ کے سر سے اوپر کو اٹھا کر میں تھامے ہوئے تھا ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ نہ بھاگنے پر }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1858-76]
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نے مرنے پر بیعت کی تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2960]
آپ فرماتے ہیں { ایک مرتبہ بیعت کر کے میں ہٹ کر ایک طرف کو کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”سلمہ! تم بیعت نہیں کرتے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو بیعت کر لی، آپ نے فرمایا: ”خیر آؤ، بیعت کرو“، چنانچہ میں نے قریب جا کر پھر بیعت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7208]
جب صلح ہو چکی ادھر کے لوگ ادھر اور ادھر کے ادھر آنے لگے، تو میں ایک درخت تلے جا کر کانٹے وغیرہ ہٹا کر اس کی جڑ سے لگ کر سو گیا، اچانک مشرکین مکہ میں سے چار شخص وہیں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ گستاخانہ کلمات سے آپس میں باتیں کرنے لگے، مجھے بڑا برا معلوم ہوا، میں وہاں سے اٹھ کر دوسرے درخت تلے چلا گیا۔
ان لوگوں نے اپنے ہتھیار اتارے درخت پر لٹکا کر وہاں لیٹ گئے تھوڑی دیر گزری ہو گی جو میں نے سنا کہ وادی کے نیچے کے حصہ سے کوئی منادی ندا کر رہا ہے کہ اے مہاجر بھائیو سیدنا ابن زنیم رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے۔ میں نے جھٹ سے تلوار تان لی اور اسی درخت تلے گیا جہاں چاروں سوئے ہوئے تھے، جاتے ہی پہلے تو ان کے ہتھیار قبضے میں کئے اور اپنے ایک ہاتھ میں انہیں دبا کر دوسرے ہاتھ سے تلوار تول کر ان سے کہا: سنو! اس اللہ کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی ہے تم میں سے جس نے بھی سر اٹھایا میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔
جب وہ اسے مان چکے میں نے کہا: اٹھو اور میرے آگے آگے چلو چنانچہ ان چاروں کو لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ادھر میرے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ بھی مکرز نامی عبلات کے ایک مشرک کو گرفتار کر کے لائے اور بھی اسی طرح کے ستر مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کئے گئے تھے۔
آپ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، برائی کی ابتداء بھی انہی کے سر رہے اور پھر اس کی تکرار کے ذمہ دار بھی یہی رہیں۔“ چنانچہ ان سب کو رہا کر دیا گیا
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1807]
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے والد بھی اس موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ کا بیان ہے کہ اگلے سال جب ہم حج کو گئے تو اس درخت کی جگہ ہم پر پوشیدہ رہی ہم معلوم نہ کر سکے کہ کس جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ہم نے بیعت کی تھی اب اگر تم پر یہ پوشیدگی کھل گئی ہو تو تم جانو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4162]
ایک روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج زمین پر جتنے ہیں ان سب پر افضل تم لوگ ہو۔“ آپ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں ہوتیں تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھا دیتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4154]
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جگہ کی تعین میں بڑا اختلاف ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جن لوگوں نے اس بیعت میں شرکت کی ہے ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4653،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن لوگوں نے اس درخت تلے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے سب جنت میں جائیں گے مگر سرخ اونٹ والا“، ہم جلدی دوڑے دیکھا تو ایک شخص اپنے کھوئے ہوئے اونٹ کی تلاش میں تھا ہم نے کہا چل بیعت کر اس نے جواب دیا کہ بیعت سے زیادہ نفع تو اس میں ہے کہ میں اپنا گمشدہ اونٹ پا لوں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3863،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ سنا کہ اس بیعت والے دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے تو کہا: ہاں ہوں گے، آپ نے انہیں روک دیا تو مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» ۱؎ [19-مريم:71] پڑھی یعنی ’ تم میں سے ہر شخص کو اس پر وارد ہونا ہے ‘، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بعد ہی فرمان باری ہے «ثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا» ۱؎ [19-مريم:72] ’ یعنی پھر ہم تقویٰ والوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل اس میں گرا دیں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2496]
ان بزرگوں کی ثنا بیان ہو رہی ہے کہ یہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کے ہاتھ ہیں، اس بیعت کو توڑنے والا اپنا ہی نقصان کرنے والا ہے اور اسے پورا کرنے والا بڑے اجر کا مستحق ہے۔
جیسے فرمایا «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» ۱؎ [48-الفتح:18] ’ یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے راضی ہو گیا جبکہ انہوں نے درخت تلے تجھ سے بیعت کی ان کے دلی ارادوں کو اس نے جان لیا پھر ان پر دلجمعی نازل فرمائی اور قریب کی فتح سے انہیں سرفراز فرمایا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه المبايعةُ التي أشار الله إليها هي بيعة الرضوان، التي بايع الصحابةُ رضي الله عنهم فيها رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - على أن لا يفرُّوا عنه؛ فهي عقدٌ خاصٌّ، من لوازمه أن لا يفرُّوا، ولو لم يبقَ منهم إلاَّ القليلُ، ولو كانوا في حال يجوزُ الفرارُ فيها. فأخبر تعالى: {إنَّ الذين يبايِعونَك}: حقيقةُ الأمرِ أنَّهم {يبايِعونَ الله}: ويعقِدونَ العقد معه، حتى إنه من شدَّة تأكُّده أنَّه قال: {يدُ الله فوق أيديهم}؛ أي: كأنهم بايعوا الله وصافحوه بتلك المبايعة، وكلُّ هذا لزيادة التأكيد والتقوية، وحملهم على الوفاء بها، ولهذا قال: {فمن نكث}: فلم يفِ بما عاهد الله عليه، {فإنَّما ينكُثُ على نفسه}؛ أي: لأنَّ وَبال ذلك راجعٌ إليه وعقوبتَه واصلةٌ له، {ومن أوفى بما عاهَدَ عليهُ اللهَ}؛ أي: أتى به كاملاً موفراً، {فسيؤتيه أجراً عظيماً}: لا يعلم عِظَمَه وقَدْرَه إلاَّ الذي آتاه إيَّاه.