تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 9

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَرِہُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۹﴾
یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو نا پسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ En
یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو ناپسند کیا تو خدا نے بھی ان کے اعمال اکارت کردیئے
En
یہ اس لئے کہ وه اللہ کی نازل کرده چیز سے ناخوش ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ذلك الإضلال والتعس للذين كفروا بسبب أنَّهم {كرهوا ما أنزل الله} من القرآن الذي أنزله [اللَّه] صلاحاً للعباد وفلاحاً لهم، فلم يقبلوه، بل أبغضوه وكرهوه، {فأحبط أعمالهم}.