تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 8

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَتَعۡسًا لَّہُمۡ وَ اَضَلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿۸﴾
اور جن لوگوں نے کفر کیا سو ان کے لیے ہلاکت ہے اور اس نے ان کے اعمال برباد کر دیے۔ En
اور جو کافر ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے۔ اور وہ ان کے اعمال کو برباد کر دے گا
En
اور جو لوگ کافر ہوئے انہیں ہلاکی ہو اللہ ان کے اعمال غارت کردے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأمَّا الذين كفروا بربِّهم ونصروا الباطل؛ فإنَّهم في تعس؛ أي: انتكاس من أمرهم وخذلانٍ، {وأضلَّ أعمالَهم}؛ أي: أبطل أعمالهم التي يَكيدونَ بها الحقَّ، فرجع كيدُهم في نحورهم، وبطلت أعمالُهم التي يزعمون أنهم يريدون بها وجه الله.