(آیت 9) {ذٰلِكَبِاَنَّهُمْكَرِهُوْامَاۤاَنْزَلَاللّٰهُ …:} یعنی اس انجام کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کر دیے، کیونکہ اعمال کے بار آور ہونے کی شرط ان کا اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق ہونا ہے۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی پہلی آیت کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 یعنی قرآن اور ایمان کو انہوں نے ناپسند کیا۔ 9۔ 2 اعمال سے مراد وہ اعمال ہیں جو صورۃ اعمال خیر ہیں لیکن عدم ایمان کی وجہ سے اللہ کے ہاں ان پر اجر وثواب نہیں ملے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ یہ اس لئے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا تھا اسے انہوں نے ناگوار سمجھا تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوْامَاۤاَنْزَلَاللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحْبَطَاَعْمَالَهُمْ﴾”تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ذلك الإضلال والتعس للذين كفروا بسبب أنَّهم {كرهوا ما أنزل الله} من القرآن الذي أنزله [اللَّه] صلاحاً للعباد وفلاحاً لهم، فلم يقبلوه، بل أبغضوه وكرهوه، {فأحبط أعمالهم}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔