تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 27

فَکَیۡفَ اِذَا تَوَفَّتۡہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ﴿۲۷﴾
تو کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے، ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوں گے۔ En
تو اُس وقت (ان کا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے ان کی جان نکالیں گے اور ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارتے جائیں گے
En
پس ان کی کیسی (درگت) ہوگی جبکہ فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی سرینوں پر ماریں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَكَیْفَ پس کیسا ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَ٘ارَهُمْ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فكيف} ترى حالَهم الشنيعة ورؤيتهم الفظيعة، {إذا توفَّتْهم الملائكةُ}: الموكلون بقبض أرواحهم، {يضرِبون وجوهَهم وأدبارَهم}: بالمقامع الشديدة.