یہ اس لیے کہ انھوںنے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اس چیز کو نا پسند کیاجو اللہ نے نازل کی، عنقریب ہم بعض کا موں میں تمھارا کہا مانیں گے اور اللہ ان کے چھپانے کو جانتا ہے۔
En
یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اُتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے۔ اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے
یہ اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ کی نازل کرده وحی کو برا سمجھا یہ کہا کہ ہم بھی عنقریب بعض کاموں میں تمہارا کہا مانیں گے، اور اللہ ان کی پوشیده باتیں خوب جانتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوْالِلَّذِیْنَكَرِهُوْامَانَزَّلَاللّٰهُ﴾”انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:“ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِیْعُكُمْفِیْبَعْضِالْاَمْرِ﴾”ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔“ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُیَعْلَمُاِسْرَارَهُمْ﴾”اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔“ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
و {ذلك}: أنَّهم قد تبيَّن لهم الهدى، فزهدوا فيه ورفضوه، و {قالوا للذين كرِهوا ما نَزَّلَ الله}: من المبارزين العداوة لله ولرسوله: {سنُطيعكم في بعض الأمرِ}؛ أي: الذي يوافق أهواءهم؛ فلذلك عاقبهم الله بالضلال والإقامة على ما يوصِلُهم إلى الشقاء الأبديِّ والعذاب السرمديِّ، {واللهُ يعلمُ إسرارَهم}: فلذلك فضحهم، وبيَّنها لعباده المؤمنين؛ لئلاَّ يغترُّوا بها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔