تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 28

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰہَ وَ کَرِہُوۡا رِضۡوَانَہٗ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَہُمۡ ﴿٪۲۸﴾
یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کر دیا اور اس کی خوشنودی کو برا جانا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ En
یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اُس نے بھی ان کے عملوں کو برباد کر دیا
En
یہ اس بنا پر کہ یہ وه راه چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کر دیا اور انہوں نے اس کی رضا مندی کو برا جانا، تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذٰلِكَ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك}: العذابُ الذي استحقُّوه ونالوه، بسبب {أنَّهم اتَّبعوا ما أسخَطَ اللهَ}: من كل كفرٍ وفسوقٍ وعصيانٍ، {وكرهوا رِضْوانَه}: فلم يكن لهم رغبةٌ فيما يقرِّبهم إليه ولا يدنيهم منه، {فأحبط أعمالَهم}؛ أي: أبطلها وأذهبها، وهذا بخلاف من اتَّبع ما يُرضي الله وكره سخطه؛ فإنَّه سيكفِّر عنه سيئاتِهِ ويضاعِفُ له أجره وثوابه.