اور تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا، ہر امت اپنے اعمال نامہ کی طرف بلائی جائے گی، آج تمھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جوتم کیا کرتے تھے ۔
En
اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا۔ اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب (اعمال) کی طرف بلائی جائے گی۔ جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔، چنانچہ فرمایا: ﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُ٘لَّاُمَّةٍجَاثِیَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُ٘لُّاُمَّةٍتُدْعٰۤىاِلٰىكِتٰبِهَا ﴾”ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔“ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد: ﴿كُ٘لُّاُمَّةٍتُدْعٰۤىاِلٰىكِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مَنْعَمِلَصَالِحًافَلِنَفْسِهٖوَمَنْاَسَآءَفَعَلَیْهَا﴾ (حم السجدۃ: 41؍46) ”جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔“
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم وصف تعالى شدَّة يوم القيامةِ وهَوْلَهُ ليحذره العباد ويستعدَّ له العُبَّاد، فقال: {وترى}: أيُّها الرائي لذلك اليوم، {كلَّ أمَّةٍ جاثيةً}: على ركبها خوفاً وذعراً وانتظاراً لحكم الملك الرحمن. {كلُّ أمة تُدعى إلى كتابها}؛ أي: إلى شريعة نبيِّهم الذي جاءهم من عند الله، وهل قاموا بها فيحصُلُ [لهم] الثواب والنجاة؟ أم ضيعوها فيحصُلُ لهم الخسران؟ فأمَّة موسى يُدعون إلى شريعة موسى، وأمَّة عيسى كذلك، وأمَّة محمد كذلك، وهكذا غيرهم؛ كلُّ أمة تُدعى إلى شرعها الذي كلفت به، هذا أحد الاحتمالات في الآية، وهو معنى صحيحٌ في نفسه، غير مشكوك فيه.
ويحتمل أن المراد بقوله: {كلُّ أمَّة تُدعى إلى كتابها}؛ أي: إلى كتاب أعمالها وما سطر عليها من خير وشرٍّ، وأنَّ كلَّ أحدٍ يُجازى بما عمله بنفسه؛ كقوله تعالى: {مَنْ عَمِلَ صالحاً فلنفسه ومن أساء فعليها}.
ويحتمل أن المعنيين كليهما مرادٌ من الآية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔