تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 29

ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّا کُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾
یہ ہماری کتاب ہے جو تم پر حق کے ساتھ بولتی ہے، بے شک ہم لکھواتے جاتے تھے ، جو تم عمل کرتے تھے۔ En
یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں
En
یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَ٘سْتَ٘نْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ويدل على هذا قولُه: {هذا كتابُنا ينطِقُ عليكم بالحقِّ}؛ أي: هذا كتابنا الذي أنزلنا عليكم يفصِلُ [بينكم] بالحقِّ الذي هو العدل، {إنَّا كنا نَسْتَنسِخُ ما كنتُم تعملون}: فهذا كتابُ الأعمال.