تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا: ”كِتَابٌ“} سے مراد کتابِ اعمال ہے، جس میں ان کی زندگی کی ساری رو داد حرف بحرف لکھی ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا» [الکھف: ۴۹] ”اور کتاب رکھی جائے گی، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہوگا اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی! اس کتاب کو کیا ہے، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے ضبط کر رکھا ہے۔“ بعض نے فرمایا، اس کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جو ہر امت کی طرف ان کے پیغمبر کے ذریعے سے بھیجی گئی، یعنی ہر امت کو اس کی کتاب کی طرف بلایا جائے گا، تاکہ وہ دیکھے کہ اس نے اس پر کہاں تک عمل کیا اور اس کے مطابق اسے جزا دی جائے۔ سیاق کی مناسبت سے پہلا معنی زیادہ درست ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۳، ۱۴)۔
➌ { اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} اس سے پہلے کچھ الفاظ محذوف ہیں: {”أَيْ يُقَالُ لَهُمْ“} یعنی ان سے یہ بات کہی جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سفیان ثوری رحمہ اللہ جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں، لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں، تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا: ”کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔“ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور معافری رحمہ اللہ مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے۔ [ابن ابی حاتم]
فرمایا وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہو گا کہ ہر شخص گھٹنوں پر گر جائے گا۔ یہاں تک کہ خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اور روح اللہ عیسیٰ علیہ السلام بھی۔ ان کی زبان سے بھی اس وقت «نفسی نفسی نفسی» نکلے گا۔ صاف کہہ دیں گے کہ ”اللہ آج ہم تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے صرف اپنی سلامتی چاہتے ہیں۔“
عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ ”آج میں اپنی والدہ کے لیے بھی تجھ سے کچھ عرض نہیں کرتا بس مجھے بچا لے۔“
گو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر گروہ جداگانہ الگ الگ ہو گا لیکن اس سے اولیٰ اور بہتر وہی تفسیر ہے جو ہم نے کی یعنی ہر ایک اپنے زانو پر گرا ہوا ہو گا۔
اور مرفوع حدیث میں جس میں صور وغیرہ کا بیان ہے یہ بھی ہے کہ { پھر لوگ جدا جدا کر دئیے جائیں گے اور تمام امتیں زانو پر جھکیں پڑیں گی }۔
یہی اللہ کا فرمان ہے «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [45-الجاثية:28]، اس میں دونوں حالتیں جمع کر دی ہیں، پس دراصل دونوں تفسیروں میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جیسے ارشاد ہے «وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [39-الزمر:69]، ’ نامہ اعمال رکھا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا ‘، آج تمہیں تمہارے ہر ہر عمل کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا۔
جیسے فرمان ہے «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ» ۱؎ [75-القيامة:15-13] ’ انسان کو ہر اس چیز سے باخبر کر دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجی اور پیچھے چھوڑی اس کے اگلے پچھلے تمام اعمال ہوں گے بلکہ خود انسان اپنے حال پر خوب مطلع ہو جائے گا گو اپنے تمام تر حیلے سامنے لا ڈالے ‘۔
یہ اعمال نامہ جو ہمارے حکم سے ہمارے امین اور سچے فرشتوں نے لکھا ہے وہ تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے پیش کر دینے کے لیے کافی و وافی ہیں جیسے ارشاد ہے «وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا» ۱؎ [18-الكهف:49]، یعنی ’ نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا تو تو دیکھے گا کہ گنہگار اس سے خوفزدہ ہو جائیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اور عمل نامے کی تو یہ صفت ہے کہ کسی چھوٹے بڑے عمل کو قلم بند کئے بغیر چھوڑا ہی نہیں ہے جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب سامنے حاضر پا لیں گے، تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ہم نے محافظ فرشتوں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ تمہارے اعمال لکھتے رہا کریں۔ { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ ”فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں، پھر انہیں لے کر آسمان پر چڑھتے ہیں، آسمان کے دیوان عمل کے رشتے اس نامہ اعمال کو لوح محفوظ میں لکھے ہوئے اعمال سے ملاتے ہیں جو ہر رات اس کی مقدار کے مطابق ان پر ظاہر ہوتا ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا ہے تو ایک حرف کی کمی زیادتی نہیں پاتے پھر آپ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی“ }۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم وصف تعالى شدَّة يوم القيامةِ وهَوْلَهُ ليحذره العباد ويستعدَّ له العُبَّاد، فقال: {وترى}: أيُّها الرائي لذلك اليوم، {كلَّ أمَّةٍ جاثيةً}: على ركبها خوفاً وذعراً وانتظاراً لحكم الملك الرحمن. {كلُّ أمة تُدعى إلى كتابها}؛ أي: إلى شريعة نبيِّهم الذي جاءهم من عند الله، وهل قاموا بها فيحصُلُ [لهم] الثواب والنجاة؟ أم ضيعوها فيحصُلُ لهم الخسران؟ فأمَّة موسى يُدعون إلى شريعة موسى، وأمَّة عيسى كذلك، وأمَّة محمد كذلك، وهكذا غيرهم؛ كلُّ أمة تُدعى إلى شرعها الذي كلفت به، هذا أحد الاحتمالات في الآية، وهو معنى صحيحٌ في نفسه، غير مشكوك فيه.
ويحتمل أن المراد بقوله: {كلُّ أمَّة تُدعى إلى كتابها}؛ أي: إلى كتاب أعمالها وما سطر عليها من خير وشرٍّ، وأنَّ كلَّ أحدٍ يُجازى بما عمله بنفسه؛ كقوله تعالى: {مَنْ عَمِلَ صالحاً فلنفسه ومن أساء فعليها}.
ويحتمل أن المعنيين كليهما مرادٌ من الآية.